کراچی : ای چالان کا نیا مرحلہ,اگلا ہدف کون سا شعبہ؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: کراچی میں ٹریفک میں ای چالان کے نفاذ کے بعد سندھ حکومت نے ایک اور شعبے میں بھی ای چالان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سندھ حکومت نے سب سے پہلے ڈھائی ماہ قبل کراچی میں ای چالان کا آغاز کیا تھا اور اب تک ہزاروں گاڑیوں کے بھاری جرمانے کے چالان گھر بیٹھے وصول کیے جا چکے ہیں۔ کئی طبقے بھاری چالان کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔
تاہم اس مخالفت کے باوجود سندھ حکومت نے ٹریفک کے بعد ایک اور اہم شعبے میں ای چالان شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ شعبہ خوراک سے متعلق ہے۔
باغبان پورہ کی خواتین نے بلاول سے سیاست چھڑوا دی، اسکے بعد کیا باتیں ہوئیں؟ دلچسپ رپورٹ
صوبائی حکومت نے فوڈ اتھارٹی میں آن لائن رجسٹریشن، کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم اور ڈیجیٹل چالان سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
اس سلسلے میں سندھ کے وزیر خوراک محبوب الزماں نے محکمہ خواتین کی پی پی کی صدر فریال تالپور سے ملاقات کی اور انہیں فوڈ اتھارٹی کی ڈیجیٹلائزیشن اور محکمہ میں ویٹ اسٹاک پالیسی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر خوراک نے فریال تالپور کو غیر معیاری خوراک کے خلاف سندھ فوڈ اتھارٹی کے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے بعد عوام کو بہتر اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر فلسطینیوں کیلئے 100 ٹن امدادی سامان روانہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔