کراچی کے بعد ای چالان کادائرہ کار سندھ کے 7 اضلاع تک بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-1-3
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کراچی میں نافذ ہونے والے فیس لیس ای چالان کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد اس کا دائرہ کار سندھ کے 7 اضلاع تک بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔آئی جی سندھ کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل آئی جیز،ویلفیئر اینڈ ورکس،ٹریننگ، ڈی جی سیف سٹی اتھارٹی، ڈی آئی جیز،ہیڈکواٹرز، ٹریفک کراچی، ڈرائیونگ لائسنس، فنانس،اے آئی جیز، پی ڈی آئی ٹی نے بالمشافہ جبکہ زونل ڈی آئی جیز بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔اجلاس کے شرکاء کو ڈی آئی جی ٹریفک کراچی اور پی ڈی آئی ٹی نے صوبے کے دیگر شہروں میں فیس لیس ای ٹکٹنگ کے نفاذ سے متعلق تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے بتایا کہ تمام ڈویژنل ڈی آئی جیز کی جانب سے شہروں میں نصب کیمروں اورTRACSسسٹم کے نفاذ کی تیاریوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ موصول ہوچکی ہے۔رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں صوبے کے 7 اضلاع ٹھٹھہ، خیرپور، شہید بے نظیرآباد، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان اور لاڑکانہ میں فیس لیس ای ٹکٹنگ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں سہولت مراکز قائم ہوچکے ہیں۔اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ چند روز میں سہولت سینٹرز کے عملے کو تربیت فراہم کردی جائے گی، ایس فور {S4} منصوبے کے تحت نصب کیمروں سے حیدرآباد میں ای ٹکٹنگ کا آغاز پہلے ہی کیا جاچکا ہے جبکہ تمام اضلاع سے موصول کیمروں اور آلات کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا ہے۔پی ڈی آئی ٹی نے بتایا کہ 7 اضلاع میں نصب کیمرے نمبر پلیٹ اوردیگرخلاف ورزیوں کی شناخت کرسکتے ہیں، بقیہ اضلاع میں نصب کیمرے آئندہ چندروز میں اپ گریڈ کردیے جائیں گے۔آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ تمام ڈی آئی جیز اپنے اضلاع میں TRACS کے نفاذ سے قبل بھرپور آگاہی/تشہیری مہم چلائیں۔ اسٹیک ہولڈرز،میڈیا،ضلعی انتظامیہ اور شہریوں کو اعتماد میں لیں۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ٹریفک مسائل اور قوانین سے متعلق آگاہی اجلاس اور ملاقاتیں کی جائیں۔بغیر ہیلمیٹ، بغیر نمبر پلیٹ اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام سے متعلق عوام کو بھرپور آگاہی فراہم کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جیز ڈی ا ئی جی اضلاع میں
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔