آئی جی پنجاب کا صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
ڈاکٹر عثمان انور(فائل فوٹو)۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیر صدارت لاہور میں اجلاس کے دوران آئی جی پنجاب نے لاہور، راولپنڈی اور ملتان سمیت صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیا۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا کہ صوبہ بھر میں فوری طور پر سوئپ اینڈ کومبنگ آپریشنز کیے جائیں۔ ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز کومبنگ آپریشنز میں سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے ہمراہ ہوں گے۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی ٹی ڈی، ایس ڈی پی اوز دیگر سیکیورٹی اداروں کے ہمراہ تعلیمی اداروں میں فرضی مشقیں بھی کرائیں، تعلیمی اداروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں۔
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی گارڈز لگانے کے ساتھ ایمرجنسی انخلا بھی یقینی بنائیں، صوبے میں باہر سے آئے افراد کی فوری پروفائلنگ اور ڈیٹا چیک کرایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ٹی ایل پی سمیت تمام کالعدم تنظیموں کی مانیٹرنگ باقاعدگی سے جاری رکھیں، دہشت گردوں اور شر پسند عناصر کے تدارک کے لیے بھرپور ڈور ناکنگ کریں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ پنجاب پولیس کے اقدامات کی وجہ سے ٹریفک لائسنسنگ میں 930 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، انھوں نے لاہور کے کرائم ریٹ میں 46 فیصد کمی پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کو شاباش دی اور کہا کہ سی سی ڈی نے کرائم کنٹرول اور منشیات فروشی کے خاتمے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
آئی جی پنجاب نے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور حادثات میں نمایاں کمی پر ڈی آئی جی ٹریفک وقاص نذیر کو بھی شاباش دی۔
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پنجاب پولیس میں آنے والے دنوں میں 3500 مزید پروموشنز ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔