شارع فیصل پر رفتار کی حد بڑھانے کیلئے قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کی اہم ترین سڑک شارع فیصل پر رفتار کی حد بڑھانے کے لیے قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کروا دی گئی۔قرارداد ایم کیو ایم رکن اسمبلی سید عثمان اور نصیر احمد نے جمع کروائی ہے۔قرارداد میں سید عثمان نے کہا کہ شارع فیصل پر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی حد 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی جائے۔سید عثمان کا کہنا تھا کہ شارع فیصل مصروف ترین شاہراہ ہے، رفتار کی حد میں اضافہ ناگزیر ہے۔قرارداد میں ٹریفک ماہرین کی مشاورت اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں ای چالان کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد شارع فیصل پر حد رفتار کے سائن بورڈز لگادیے گئے ہیں۔ ڈی ایس پی ایڈمن کاشف ندیم کے مطابق شارع فیصل پر کار جیپ وغیرہ کے لیے حد رفتار 60 کلومیٹر رکھی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شارع فیصل پر رفتار کی حد
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔