جاپان میں شدید 7.6 ریکٹر زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جاپان میں آج شدت 7.6 کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد سونامی کی وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔
خبر ایجنسیاں رپورٹ کر رہی ہیں کہ زلزلے کے فوری بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ہر طرف افراتفری کا منظر پیدا ہو گیا، ساحلی علاقوں میں تین میٹر بلند سونامی کی توقع ہے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زلزلے کی بنیادی وجہ زمین کی تین بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں ہیں: یوریشین، انڈین اور اریبئین۔ زیر زمین حرارت کے جمع ہونے سے یہ پلیٹیں حرکت کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین لرزتی ہے اور یہ ہی زلزلہ کہلاتا ہے۔
زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں طرف پھیلتی ہیں، اور زمین کی سطح پر اچانک توانائی کے اخراج کی وجہ سے شدید لرزش پیدا ہوتی ہے، جسے سائزمک ویوز کہتے ہیں۔
عمومی طور پر زلزلے فالٹ زونز میں ہوتے ہیں، جہاں پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔ پلیٹوں کے آپس میں رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عموماً سطح زمین پر فوراً محسوس نہیں ہوتے، مگر ان کے نتیجے میں شدید تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ جب یہ تناؤ اچانک خارج ہوتا ہے تو زلزلے کی صورت میں توانائی زمین کی سطح پر نمودار ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ علاقے جہاں ایک مرتبہ شدید زلزلہ آ چکا ہو، وہاں مستقبل میں بھی شدید زلزلے آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے ایسے علاقوں میں رہائشیوں کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی اور احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ واقعہ جاپان کے لیے ایک بار پھر یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف جدید سونامی الرٹ سسٹمز کی ضرورت ہے بلکہ عوامی آگاہی اور فوری ردعمل بھی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔