جنوبی کوریا میں عالمی شہرت یافتہ فٹبالر سون ہیونگ من کو اپنے بچے کا باپ ہونے کا الزام عائد کرکے بلیک میل کرنے والی خاتون کو 4 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا میں ایک 20 سالہ لڑکی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے ہونے والے بچے کا باپ سون ہیونگ ہے۔

لڑکی کے 40 سالہ دوست نے بھی گواہی دی تھی کہ کھلاڑی اور متاثرہ لڑکی درمیان دوستی تھی جو بعد میں محبت میں تبدیل ہوگئی تھی۔

خاتون اور اس کے دوست نے کھلاڑی کو دھمکایا تھا کہ اگر رقم ادا نہ کی تو وہ بچے کی بات میڈیا کو بتادیں گے۔

جس پر کھلاڑی سون ہیونگ دباؤ میں آ گئے اور انھوں نے دونوں کو 3 کروڑ کورین وون (تقریباً 2 لاکھ امریکی ڈالر) ادا بھی کردیئے تھے۔

الزام لگانے والی لڑکی نے اس رقم کو لگژری اشیا کی خریداری میں خرچ کیے اور پھر اپنے ساتھی کی مدد سے مزید رقم کا تقاضا کرنے لگی۔

اس بار فٹبالر نے رقم دینے کے بجائے یہ معاملہ پولیس کے سپرد کردیا۔ تفتیش کے دوران لڑکی اور اس کے ساتھی نے الزام جھوٹا ہونے کا اعتراف کرلیا۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ یہ خاتون خود کو مظلوم دکھانے کی کوشش کرتی رہی۔ جس نے پوری منصوبہ بندی سے فٹبالر کے گرد جال بچھایا تھا۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ لڑکی کے ساتھی نے بھی رقم ہتھیانے میں اہم کردار ادا کیا اور کم از کم 15 بار دھمکی آمیز کی کالز کیں۔

جنوبی کوریا کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاتون کے اس بے بنیاد الزام پر سون ہیونگ من کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سون ہیونگ من کا شمار ایشیا کے بہترین فٹبالر میں ہوتا ہے۔ اس جھوٹے کیس سے ان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔

عدالت نے بے بنیاد الزام لگانے کے جرم میں 20 سالہ لڑکی کو 4 سال جب کہ اس کی مدد کرنے والے 40 سالہ دوست کو 2 سال قید کی سزا سنائی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سون ہیونگ

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق