دبئی، صیہونیوں کی توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں عبرانی اخبار کا کہنا تھا کہ دبئی دنیا میں فحاشی کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عبرانی نیٹ ورک i24 نے اسرائیل کی ائیرپورٹ اتھارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس وقت دبئی میں صیہونی مسافروں کی آمد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ گزشتہ اکتوبر کے مہینے میں تقریباً 1 لاکھ صیہونی آباد کاروں نے اس شہر کا رخ کیا، حالانکہ قبل ازیں ان مسافروں کی تعداد 85 سے 90 ہزار کے درمیان رہتی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اسرائیلیوں کے دبئی سفر کا رجحان بڑھا ہے۔ قابل غور بات ہے کہ ابراہیم اکارڈ کے ضمن میں جب سے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کے معاہدے پر دستخط کئے، تب سے دبئی! صیہونیوں کے لئے ایک اہم مقام میں تبدیل ہو گیا ہے۔ تاہم، اس بڑھتے ہوئے ریلے نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ دبئی میں صیہونیوں کے لئے مکمل طور پر دروازے کھولنے سے، سماجی اور ثقافتی اثرات کا آغاز ہو سکتا ہے جو عرب معاشروں کی شناخت پر اثر انداز ہوں گے۔
اس کے علاوہ خطے کے فوجی اور سیکورٹی مسائل میں اسرائیل کے نفوذ کا خطرہ لاحق ہے۔ نیز تفریحی سرگرمیوں اور سیاحت کے ذریعے بھی ان علاقوں میں فساد و بدکاری کو پھیلایا جا سکتا ہے۔ صیہونیوں کی بدخواہانہ کوششیں سارے خطے کو آلودہ کر رہی ہیں یہانتک کہ یدیعوت آحارونوت نامی اخبار نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی، جس کا عنوان 2020ء میں اسرائیل کی دبئی میں جنسی سیاحت تھا۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی دلالوں نے سیاحت کے لئے مشرقی یورپ کے ممالک کی بجائے دبئی کا رُخ کیا ہے۔ یدیعوت آحارونوت نے مذکورہ تحقیقاتی رپورٹ کو اس خطے کے لئے ایک چونکا دینے والے نتیجے پر ختم کیا کہ دبئی دنیا میں فحاشی کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لئے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔