Islam Times:
2026-06-03@04:48:14 GMT

دبئی، صیہونیوں کی توجہ کا مرکز

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

دبئی، صیہونیوں کی توجہ کا مرکز

اپنی ایک رپورٹ میں عبرانی اخبار کا کہنا تھا کہ دبئی دنیا میں فحاشی کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عبرانی نیٹ ورک i24 نے اسرائیل کی ائیرپورٹ اتھارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس وقت دبئی میں صیہونی مسافروں کی آمد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ گزشتہ اکتوبر کے مہینے میں تقریباً 1 لاکھ صیہونی آباد کاروں نے اس شہر کا رخ کیا، حالانکہ قبل ازیں ان مسافروں کی تعداد 85 سے 90 ہزار کے درمیان رہتی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اسرائیلیوں کے دبئی سفر کا رجحان بڑھا ہے۔ قابل غور بات ہے کہ ابراہیم اکارڈ کے ضمن میں جب سے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کے معاہدے پر دستخط کئے، تب سے دبئی! صیہونیوں کے لئے ایک اہم مقام میں تبدیل ہو گیا ہے۔ تاہم، اس بڑھتے ہوئے ریلے نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ دبئی میں صیہونیوں کے لئے مکمل طور پر دروازے کھولنے سے، سماجی اور ثقافتی اثرات کا آغاز ہو سکتا ہے جو عرب معاشروں کی شناخت پر اثر انداز ہوں گے۔

اس کے علاوہ خطے کے فوجی اور سیکورٹی مسائل میں اسرائیل کے نفوذ کا خطرہ لاحق ہے۔ نیز تفریحی سرگرمیوں اور سیاحت کے ذریعے بھی ان علاقوں میں فساد و بدکاری کو پھیلایا جا سکتا ہے۔ صیہونیوں کی بدخواہانہ کوششیں سارے خطے کو آلودہ کر رہی ہیں یہانتک کہ یدیعوت آحارونوت نامی اخبار نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی، جس کا عنوان 2020ء میں اسرائیل کی دبئی میں جنسی سیاحت تھا۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی دلالوں نے سیاحت کے لئے مشرقی یورپ کے ممالک کی بجائے دبئی کا رُخ کیا ہے۔ یدیعوت آحارونوت نے مذکورہ تحقیقاتی رپورٹ کو اس خطے کے لئے ایک چونکا دینے والے نتیجے پر ختم کیا کہ دبئی دنیا میں فحاشی کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے