سندھ سرکار کاسرکاری ملازمت کیلئے بڑا فیصلہ ؛ عمر کی حد میں 5 اور 2 برس کی رعایت
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سٹی 42: عمر بڑ ھ گئی ملازمتیں نہ مل سکی،سندھ سرکار نے سرکاری ملازمت کیلئے بڑا فیصلہ کردیا
عمر کی حد میں مزید پانچ اور دو سالوں کی رعایت دے دی ،سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹی فکیشن جاری کردیا۔نوٹی فکیشن محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن و کو آرڈی نیشن نے جاری کیا
نوٹی فکیشن سیکشن افسر ٹو ندیم احمد کے دستخط سے جاری کیا گیا ۔آئی بی اے سکھر کے ذریعے بھرتیوں کے عمر کی حد 33 برس مقرر کردی ۔
عمر کی حد میں 28 سال سے بڑھا کر 33 سال کردی گئی ۔عمر کی حد میں پانچ سالوں کی رعایت دے دی گئی ۔سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیوں کیلئے عمر کی حد میں دو سالوں کی رعایت دی گئی
عمر کی حد تیس سال مقرر کردی گئی ۔عمر کی حد میں رعایت سپریم کورٹ کے حکم پر دے دی گئی ۔
عمر کی حد میں دی جانے والی رعایت کو سندھ حکومت نے ختم کیا تھا ۔عمر کی حد میں دی جانے والے رعایت ختم ہونے کے بعد ملازمت کےخواہشمند امیدواروں کے ارمان ہی دم توڑ گئے تھے ۔سندھ حکومت نے طویل سالوں سے بھرتیوں پر پابندی لگا رکھی تھی ۔ نئی بھرتیوں پر پابندی اٹھا دی گئی تھی .
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عمر کی حد میں کی رعایت
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔