پشاور:

عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے حوالے سے پشاور اور صوابی میں پی ٹی آئی کا احتجاج جاری ہے جبکہ احتجاجی مظاہروں کے دوران پارٹی قیادت میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔

سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج صوابی انٹرچینج پر احتجاج کا اعلان احمد خان نیازی نے کیا ہے، جبکہ پارٹی اور وزیر اعلیٰ نے کارکنوں کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت دی ہے۔ ان کے مطابق منتخب نمائندے اڈیالہ جیل جائیں گے جبکہ صوابی کا احتجاج صرف ایک ’’ٹوکن احتجاج‘‘ ہے، جس کی باضابطہ کال پارٹی نے جاری نہیں کی۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ایک احتجاج اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر بھی جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں گورنر راج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن ’’کیا گورنر راج سے حالات بہتر ہوں گے؟‘‘ ان کے مطابق حکومت اقتدار بچانے کے لئے غلط دھمکیاں دے رہی ہے۔

دوسری جانب صوابی انٹرچینج پر پی ٹی آئی رہنما احمد خان نیازی کی قیادت میں احتجاجی قافلہ پشاور انٹرچینج سے روانہ ہوا۔

احمد نیازی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کا احتجاج بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہے اور موٹروے کو صوابی کے مقام پر بند کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بہنوں کی طرف سے احکامات نہیں آتے احتجاج جاری رہے گا، اور یہ احتجاج صرف صوابی تک محدود ہے۔

پشاور سے روانہ ہونے والا قافلہ چارسدہ پہنچ گیا، جہاں 80 سے 100 کارکنوں نے اس کا استقبال کیا، اور قافلہ دوبارہ صوابی کے لیے روانہ ہونے والا ہے۔ تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق پشاور میں پی ٹی آئی کا احتجاجی مظاہرہ کارکنوں کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے کمزور پڑا، اور نہ ہی ٹول پلازہ پر کوئی رکن اسمبلی یا بڑا عہدیدار موجود تھا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر علیٰ سہیل آفریدی نے بھی صوابی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ آج ہونے والے اسلام آباد اور راولپنڈی کے احتجاجی مظاہروں میں بھی وزیر اعلیٰ شریک نہیں ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے اعلان سے قبل صوبائی قیادت سے مشاورت بھی نہیں کی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا احتجاج پی ٹی آئی کے مطابق

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق