نیب نے سندھ سے متعلق 166 کیسز اینٹی کرپشن سندھ کو منتقل کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ سے متعلق 166 کیسز اینٹی کرپشن سندھ کو منتقل کر دیے، نیب سے اینٹی کرپشن سندھ کو منتقل ہونے والے کیسز میں 107 ریفرنسز بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب سے اینٹی کرپشن کو 28 انویسٹی گیشن بھی منتقل کی گئی ہیں، نیب سے بھیجے گئے کیسز سندھ کے محکمہ خوراک، بلدیات، ثقافت سے متعلق ہیں۔
نیب کی جانب سے منتقل ہونے والے کیسز میں محکمہ ریونیو، خصوصی تعلیم سے متعلق بھی ہیں، منتقل کیسز میں 52ریفرنسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، نیب سے منتقل 64 کیسز کا مکمل ریکارڈ ابھی تک اینٹی کرپشن کو فراہم نہیں کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے کرپشن کی 711 شکایات بھی اینٹی کرپشن کو منتقل کیا گیا ہے، کرپشن کے ان کیسز کی مزید تحقیقات اینٹی کرپشن سندھ کرے گا، نیب سے منتقل ہونے والے کیسز میں 31 انکوائریز بھی شامل ہیں، تمام کیسز نیب کراچی اور سکھر دفاتر سے بھجوائے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن سندھ کو منتقل کیسز میں
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔