پاکستان کے لیجنڈ فاسٹ بولر وسیم اکرم کا ریکارڈ توڑنے کے باوجود آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک ماضی کے لیفٹ آرم اسپیڈ اسٹار کو دنیا کا بہترین فاسٹ بولر سمجھتے ہیں۔

مچل اسٹارک نے گزشتہ روز ایشز کے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں سابق پاکستانی کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا 414 وکٹیں لینے کا ریکارڈ توڑا اور وہ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے لیفٹ آرم فاسٹ بولر بن گئے۔

پہلے روز کے کھیل کے اختتام پر جب پریس کانفرنس کے دوران مچل اسٹارک سے پوچھا گیا کہ کیا وسیم اکرم کا ریکارڈ توڑنے کے بعد آپ خود کو لیفٹ آرم گریٹسٹ بولر آف آل ٹائم سمجھتے ہیں، جس پر ان کا کہنا تھا میں خود کو ایسا نہیں سمجھتا، میں سمجھتا ہوں کہ وسیم اکرم اب بھی مجھ سے بہت بہتر بولر ہیں، وہ اب بھی لیفٹ آرم بولرز میں سب سے اوپر ہیں۔

مچل اسٹارک کا کہنا تھا مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میرا نام بھی ان جیسے عظیم لیڈر کے ساتھ لیا جا رہا ہے لیکن میں صرف اپنی پرفارمنس سے وکٹیں لینے کی کوشش کر رہا ہوں۔

گزشتہ روز وسیم اکرم نے بھی سوشل میڈیا پر مچل اسٹارک کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا آپ بہت ہی محنتی بولر ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ آپ نے میرا ریکارڈ توڑا، اسی طرح پرفارم کر کرے چمکتے رہیں۔

Super Starc! Proud of you, mate.

Your incredible hard work sets you apart, and it was only a matter of time before you crossed my tally of wickets . I am pleased to give this to you! Go well, and keep soaring to new heights in your stellar career . ????????@mstarc56

— Wasim Akram (@wasimakramlive) December 4, 2025


واضح رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر کا اعزاز انگلینڈ کے سابق بولر جیمز اینڈرسن کے پاس ہے جنہوں نے 188 میچز میں 704 وکٹیں لیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وکٹیں لینے مچل اسٹارک فاسٹ بولر وسیم اکرم لیفٹ آرم

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا