سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے لیفٹ آرم فاسٹ بولر بننے کے بعد اسٹارک نے وسیم اکرم سے متعلق کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پاکستان کے لیجنڈ فاسٹ بولر وسیم اکرم کا ریکارڈ توڑنے کے باوجود آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک ماضی کے لیفٹ آرم اسپیڈ اسٹار کو دنیا کا بہترین فاسٹ بولر سمجھتے ہیں۔
مچل اسٹارک نے گزشتہ روز ایشز کے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں سابق پاکستانی کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا 414 وکٹیں لینے کا ریکارڈ توڑا اور وہ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے لیفٹ آرم فاسٹ بولر بن گئے۔
پہلے روز کے کھیل کے اختتام پر جب پریس کانفرنس کے دوران مچل اسٹارک سے پوچھا گیا کہ کیا وسیم اکرم کا ریکارڈ توڑنے کے بعد آپ خود کو لیفٹ آرم گریٹسٹ بولر آف آل ٹائم سمجھتے ہیں، جس پر ان کا کہنا تھا میں خود کو ایسا نہیں سمجھتا، میں سمجھتا ہوں کہ وسیم اکرم اب بھی مجھ سے بہت بہتر بولر ہیں، وہ اب بھی لیفٹ آرم بولرز میں سب سے اوپر ہیں۔
مچل اسٹارک کا کہنا تھا مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میرا نام بھی ان جیسے عظیم لیڈر کے ساتھ لیا جا رہا ہے لیکن میں صرف اپنی پرفارمنس سے وکٹیں لینے کی کوشش کر رہا ہوں۔
گزشتہ روز وسیم اکرم نے بھی سوشل میڈیا پر مچل اسٹارک کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا آپ بہت ہی محنتی بولر ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ آپ نے میرا ریکارڈ توڑا، اسی طرح پرفارم کر کرے چمکتے رہیں۔
Super Starc! Proud of you, mate.
— Wasim Akram (@wasimakramlive) December 4, 2025
واضح رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر کا اعزاز انگلینڈ کے سابق بولر جیمز اینڈرسن کے پاس ہے جنہوں نے 188 میچز میں 704 وکٹیں لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وکٹیں لینے مچل اسٹارک فاسٹ بولر وسیم اکرم لیفٹ آرم
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں