محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے نادرا کے تعاون سے پاسپورٹ کے حصول کے خواہشمند شہریوں کی سہولت کے لیےاب فنگر پرنٹس ویریفیکیشن پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے ممکن بنادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا دفاتر اب پاسپورٹ بھی جاری کریں گے لیکن منفی پہلو کون سے؟

ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق پاسپورٹ کے حصول کے خواہشمند درخواست گزاروں کے لیے ایسی سہولت متعارف کرائی ہے جس کے تحت فنگر پرنٹس ویریفیکیشن کا مرحلہ آسان بناتے ہوئے نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔

محکمہ پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کی جانب سے آن لائن پاسپورٹس درخواست گزاروں کو فنگر پرنٹس ویریفیکشن کے حوالے سے درپیش مشکل آسان کر دی گئی، نادرا کے تعاون سے پاک آئی ڈی ایپ پر فنگر پرنٹس کی تصدیق کا نیا نظام متعارف کروا دیا گیا۔۔۔ pic.

twitter.com/kuRAatRI5T

— Directorate General Immigration & Passports (@DGIPofficial) December 5, 2025

اب شہری آن لائن بھی پاسپورٹ کی درخواست جمع کرواسکتے ہیں، تاہم اگر فنگرپرنٹس کی تصدیق میں مسئلہ درپیش ہو تو چہرے کی تصدیق کی سہولت بھی موجود ہے۔

ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک اعلامیے میں درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نادرا پاسپورٹ کی درخواست جمع کروانے کے لیے آن لائن ویب پورٹل پر جائیں۔

مزید پڑھیں:نادرا کا فیس وصولی کے لیے نیا اور آسان طریقہ کار کیا ہے؟

’فنگرپرنٹس کے مرحلے میں پہنچنے پر پاک آئی ڈی موبائل ایپ لاگ ان کریں، بائیو میٹرک ویریفکیشن کے سیکشن میں آن لائن پاسپورٹ منتخب کریں، اس کے بعد اپنا پاسپورٹ ٹریکنگ آئی ڈی اور شناختی کارڈ نمبر درج کریں اور ایپ کے ذریعے اپنے چہرے اور فنگر پرنٹس کی تصدیق کروائیں۔‘

مذکورہ ہدایت نامے کے مطابق، تصدیق مکمل ہونے کے بعد ایک پیغام ظاہر ہوگا اور درخواست گزاروں کو ویب پورٹل کے ذریعے درخواست جمع کروانے کی ہدایت دی جائے گی، بقیہ کارروائی مکمل کرتے ہوئے درخواست جمع کروائی جاسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایپ پاک آئی ڈی فنگر پرنٹس نادرا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایپ پاک ا ئی ڈی درخواست گزاروں پرنٹس کی تصدیق درخواست جمع کے لیے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش