وزیراعظم، مریم نواز کا آج دورہ، گوجرانوالہ متوقع میگا پراجیکٹس کا اعلان ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا آج گوجرانوالہ کا دورہ متوقع ہے۔ جلسہ گاہ سمیت تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دیدی گئی۔ اربوں روپے مالیت کے میگا پراجیکٹس کے اعلان کیلئے ممبران اسمبلی، قائدین و رہنما پر عزم ہیں، لذیز کھانوں سے تواضع، تاریخی فقیدالمثال استقبال کیلئے ''منوں''پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جائیں گی۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ چندا قلعہ فلائی اوورکا افتتاح کرنے کیساتھ رائل پام سٹی میں جلسہ عام سے خطاب کرینگے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب چیف منسٹرز ویژن ٹرانسپورٹ ٹی 30کے تحت بین الاقوامی معیار کا جدید اور ماحول دوست ماس ٹرانزٹ کو ریڈور منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نوید احمد، سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر خان، ایم پی اے عمران خالد بٹ، سابق ایم پی اے عبدالرؤف مغل، سوشل میڈیا ہیڈ پنجاب کاشف صابر خان، رہنما محمد شعیب بٹ و دیگر نے جلسہ گاہ کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے دورہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔