کراچی میں 12 ہزار کیمرے لگانے کا ٹارگٹ، 1200 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں: پیر محمد شاہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں 12 ہزار کیمرے نصب کیے جانے کا ہدف ہے۔
اس سلسلے میں جیو نیوز کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران ڈی آئی جی ٹریفک کا کہنا تھا کہ کراچی شہر میں 12 ہزار کیمرے لگانے کا ٹارگٹ ہے جس میں میں سے اب تک 1200 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ شہر میں جہاں جہاں ای چالان سسٹم نافذ کیا گیا اس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں، اس میں مزید کام کی گنجائش ابھی باقی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں ای چالان سسٹم کیخلاف مرکزی مسلم لیگ نے درخواست دائر کردی، درخواست صدر مرکزی مسلم لیگ کراچی احمد ندیم اعوان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ادارے مل کر ٹریفک کے سسٹم میں کام کرتے ہیں لیکن ٹریفک انجینئر بیورو ایک اہم ادارا ہے جو کافی عرصے غیر فعال رہا۔
ڈی آئی جی ٹریفک کا کہنا تھا کہ حکومت کو سفارش بھیجی گئی ہے کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے کراچی مینجمینٹ کمپنی بنائی جائے، امید ہے کہ حکومت ہماری سفارش پر نظرِ ثانی کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔