اروندھتی رائے کی کتاب پر پابندی کی درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
نئی دہلی : سپریم کورٹ آف انڈیا نے بکر انعام یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے کی نئی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ Mother Mary Comes to Me کی فروخت، سرکولیشن اور نمائش پر پابندی عائد کرنے کی درخواست یکسر خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو مصنفہ اور نہ ہی پبلشر نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ کتاب کے سرورق پر رائے کی بیڑی یا سگریٹ تھامے تصویر کو اشتہار یا تمباکو نوشی کی ترویج قرار نہیں دیا جاسکتا۔
درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ سرورق پر موجود تصویر قانون کے خلاف ہے اور تمباکو مصنوعات کی ترغیب کا سبب بن سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ دلیل بے بنیاد ہے، کیونکہ یہ کوئی ہورڈنگ نہیں جو عوام کے درمیان تمباکو نوشی کو فروغ دے بلکہ ایک ادبی کتاب کا سرورق ہے جسے صرف وہی شخص دیکھے گا جو کتاب خریدے یا پڑھے گا۔
بنچ نے پبلشر پینگوئن اور مصنفہ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتہار نہیں ہے، آپ مصنفہ کے خیالات یا اسلوب سے اختلاف کریں، لیکن اسے قانون کی خلاف ورزی نہیں کہا جاسکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کوٹپا ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت اشتہارات، پروموشن، اسپانسرشپ یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات کی مارکیٹنگ پر پابندی عائد ہے، تاہم کتاب کے سرورق پر محض ایک تصویر کو اس قانون کے تحت نہیں لایا جاسکتا۔
بنچ نے کہا کہ کتاب پر سلامتی وارننگ درج ہے اور یہ مکمل طور پر قانون کے مطابق ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ معلوم نہیں یہ گنجا بیڑی ہے یا عام بیڑی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ یہ بحث غیر متعلق ہے کیونکہ کتاب یا پبلشر کسی بھی طرح تمباکو مصنوعات کی تشہیر نہیں کر رہے۔
سپریم کورٹ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزار راجسمہن کی اپیل خارج کر دی اور کہا کہ اس طرح کی
درخواستیں عدالت کے وقت کا زیاں اور بلاوجہ تنازع کھڑا کرنے کا ذریعہ ہیں۔
کتاب Mother Mary Comes to Me، اروندھتی رائے کی تازہ ترین یادداشت (memoir) ہے، جسے ادبی حلقوں میں خاص پذیرائی مل رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل رائے کی کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔