جرمنی میں طلبہ کا نئے فوجی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن: جرمنی کے مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ نے کلاسز چھوڑ کر نئے فوجی خدمت کے قانون کے خلاف احتجاج کیا، اس قانون کے تحت 18 سال کے مردوں کو لازمی میڈیکل چیک اپ اور سوالنامہ مکمل کرنا ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق احتجاجی مہم School Strike Against Military Service کے تحت ہیمبرگ، بوخم، بیلیفلڈ، مینسٹر، کولون، ڈسلسڈورف اور اسٹٹ گارٹ سمیت 90 سے زیادہ شہروں میں مظاہرے کیے گئے، برلن میں 3,000 سے زائد طلبہ ہالیشیس ٹور میٹرو اسٹیشن کے قریب جمع ہوئے اور اورانیئن پلازہ تک مارچ کیا، مظاہرین نے بینرز اٹھائے جن پر نعرے لکھے تھے، لازمی فوجی خدمت نہیں، طلبہ جنگ اور اسلحے کے خلاف، ہمارا مستقبل ہمارا حق اور ہم خود فیصلہ کرتے ہیں ۔
ایک چھوٹا گروپ پارلیمنٹ کے باہر بھی مظاہرہ کر رہا تھا، جبکہ اندر قانون ساز بل پر بحث کر رہے تھے۔
بلڈسٹاگ نے بل کو 323 کے مقابلے میں 272 ووٹ سے منظور کر لیا اور اب یہ بل بُنڈسراٹ (جرمنی کی اپر ہاؤس) کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، اگر منظور ہو گیا تو یہ یکم جنوری 2026 سے نافذ ہوگا۔
نئے قانون کا مقصد جرمن فوج بُنڈسویئر میں عملے کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ موجودہ فوج میں تقریباً 1,84,000 فعال فوجی ہیں جبکہ وزارت دفاع چاہتی ہے کہ 2035 تک تعداد 2,70,000 تک بڑھائی جائے، جس کے لیے ہر سال تقریباً 20,000 نئے فوجی شامل کرنا ضروری ہیں۔
نظام کے تحت یکم جنوری 2008 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے تمام مردوں کو سوالنامہ مکمل کرنا اور لازمی میڈیکل معائنہ کروانا ہوگا جبکہ خواتین کے لیے حصہ لینا اختیاری ہے۔
فوج میں شامل ہونا ابھی بھی رضاکارانہ ہوگا، لیکن اگر مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوئی تو پارلیمنٹ مستقبل میں لازمی فوجی خدمت یا طلب پر مبنی خدمت نافذ کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے، جرمنی نے 2011 میں لازمی فوجی خدمت ختم کر کے مکمل رضاکارانہ فوجی نظام اپنا لیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فوجی خدمت
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔