این ایف سی ایوارڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ بہت اہم ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ کارونجھر منصوبہ سندھ حکومت نے منسوخ کیا ہے، وہاں کسی کی لیز نہیں۔
سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے جس دور سے گزر رہے ہیں، اس کی وجہ انکا منفی پروپیگنڈا ہے۔ فیلڈ مارشل کے نوٹیفکیشن پر بھی ایسا ہی پروپیگنڈا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم کی باتوں کو ہم سنجیدہ نہیں لیتے، سندھ کی تقسیم کی باتیں وہ خود کو زندہ رکھنے کے لیے کرتے ہیں، ایم کیو ایم والے صرف شوشا چھوڑتے ہیں۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سب سے زیادہ بااختیار بلدیاتی نظام اس وقت سندھ میں ہے، ایم کیو ایم سندھ کے بلدیاتی نظام میں شامل ہی نہیں ہوئی تھی۔
کراچی وزیر بلدیات ہاوسنگ و ٹائون پلاننگ سید ناصر.
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کم سن بچے کا گٹر میں گرنا انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، وزیر اعلیٰ نے کوتاہی برتنے پر سب کو معطل کردیا ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ کوئی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا، سپر اسٹور والے پارکنگ کے پیسے تو لے لیتے ہیں لیکن ان سے چھوٹا سا گڑھا نہیں بھرا گیا۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، پہلے یہاں کانوائے چلا کرتے تھے اب ایسی صورتحال نہیں، قبائلی تصادم روکنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایم کی
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔