بدین، پولیس کانسٹیبل کیلیے منتخب امیدواروں میں جوائننگ آرڈرز تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین(نمائندہ جسارت )ایس ٹی ایس کے ذریعے سندھ پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے کے لیے منتخب ہونے والے ضلع بدین کے 117 امیدواروں کو باقاعدہ جوائننگ آرڈرز جاری کردیے گئے۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو کانفرنس ہال، ایس ایس پی آفس بدین میں ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی کی زیرِ صدارت ایک پْروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں کامیاب امیدواروں کو ان کے جوائننگ آرڈرز تقسیم کیے گئے۔ایس ٹی ایس کے تحت منعقدہ امتحانات اور انٹرویوز میں میرٹ کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنے والے ضلع بدین کے 101 مرد اور 16 خواتین امیدواروں کو اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا، جہاں انہیں سندھ پولیس میں بطور کانسٹیبل خدمات کے لیے جوائننگ آرڈرز دیے گئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی نے تمام کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کی اور کہاآپ سب کی یہ شاندار کامیابی نہ صرف آپ کے خاندانوں بلکہ پورے ضلع بدین کے لیے باعثِ فخر ہے۔ پولیس فورس میں شمولیت ایک باوقار مگر انتہائی ذمہ دارانہ قدم ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ دیانت داری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ عوامی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھیں گے۔ایس ایس پی بدین نے مزید کہا کہ میرٹ پر بھرتی ہونے والے نوجوان پولیس فورس میں تازہ جذبہ اور توانائی لے کر آتے ہیں، جو قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور پولیس کے وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔تقریب میں ڈی ایس پی بدین پیر شبیر حیدر اور شیٹ کلرک محمد زمان میمن نے بھی شرکت کی، جنہوں نے نئے شامل ہونے والے کانسٹیبلز کو محکمانہ قواعد، ڈیوٹی کے آداب اور عوامی خدمت کے اصولوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔آخر میں ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی اور ڈی ایس پی پیر شبیر حیدر نے تمام نئے کانسٹیبلز اور لیڈی کانسٹیبلز کو اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور لگن سے ادا کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی بدین جوائننگ ا رڈرز امیدواروں کو کے لیے
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔