لاہور: ٹریکٹر ٹرالی کی ٹکر سے پولیس اہلکار شہید، ایک شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور کے علاقے لوئر مال میں افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں ریت سے بھری تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی نے ڈیوٹی پر موجود دو پولیس اہلکاروں کو ٹکر مار دی۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کانسٹیبل محمد صفدر اور کانسٹیبل محمود کارپوریشن چوک پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اچانک بے قابو ٹریکٹر ٹرالی ان پر چڑھ دوڑی۔ ٹکر اس قدر شدید تھی کہ کانسٹیبل محمد صفدر جانبر نہ ہو سکے، جبکہ کانسٹیبل محمود کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعہ کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی، تاہم ٹریکٹر ٹرالی کا ڈرائیور جائے حادثہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے اور ڈرائیور کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔
شہید کانسٹیبل کی میت پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی تحقیقات ہر زاویے سے کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹریکٹر ٹرالی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔