پاکستان میں منرل واٹر کے غیرمعیاری اور مضر صحت برانڈز کونسے ہیں؟ فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل (PCRWR) نے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں ملک میں فروخت ہونے والے متعدد منرل واٹر برانڈز کو انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔
جولائی تا ستمبر جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 205 برانڈز میں سے 26 معیار کی مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں 26 منرل واٹر برانڈز انسانی صحت کے لیے غیرمحفوظ قرار
رپورٹ کے مطابق 17 مختلف برانڈز میں خطرناک جراثیم موجود پائے گئے۔ ان میں اے ٹو زی پیور ڈرنکنگ واٹر، نیو مہران، زلمی، پیور لائف، دیر ڈرنکنگ واٹر، ڈریم پیور، گلف، کرسٹل ایکوا، روحا واٹر، پریمیم ڈرنکنگ واٹر، فریش ایکوا، ایشیا ہیلتھی ڈرنکنگ واٹر، آئس برگ، لاثانی، وولگا اور مایا پریمیم جیسے نام شامل ہیں۔
کئی برانڈز میں کیمیکل اجزا مقررہ معیار سے زیادہ پائے گئے، جب کہ بڑی تعداد جراثیم سے آلودہ تھی۔ ماہرین کے مطابق ان برانڈز کا استعمال صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق 4 برانڈز میں سوڈیم کی مقدار غیر معمولی حد تک زیادہ تھی، جن میں پیور ڈرنکنگ واٹر، الٹسن اور پیوریفا شامل ہیں۔ اسی طرح سنکھیا (آرسنک) کی زیادہ مقدار نیچرل پیور لائف، ایکوا نیسٹ، پریمیم صفا پیوریفائڈ واٹر، پیو پانی بوتل ڈرنکنگ واٹر اور وولگا میں پائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: کیا اسپارکلنگ واٹر واقعی کولڈ ڈرنکس کا صحتمند متبادل ہے؟
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2 برانڈز میں پوٹاشیم ضرورت سے زیادہ تھا جن میں مائی پیور واٹر اور سمارٹ پیور لائف شامل ہیں، جبکہ بعض برانڈز میں ٹی ڈی ایس کی مقدار بھی حد سے بڑھ چکی تھی۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ آلودہ پانی متعدد بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے شہری پینے کے پانی کی خریداری میں خصوصی احتیاط سے کام لیں اور صرف معیاری و مستند برانڈز کا استعمال کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پانی صحت مضر صحت منرل واٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پانی منرل واٹر ڈرنکنگ واٹر منرل واٹر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
روم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق واقعےکے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، دونوں ملزمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جناب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہےکہ اطلاع ہےکہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ترجمان کے مطابق مقامی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ان میں فرانزک شواہد کا جائزہ بھی شامل ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مزید پیشرفت کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
بجٹ 2026-27 ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی
مزید :