WE News:
2026-07-24@03:36:15 GMT

ریاض میں بین الاقوامی کھجور کانفرنس ونمائش کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

ریاض میں بین الاقوامی کھجور کانفرنس ونمائش کا آغاز

سبق اخبار کے مطابق ریاض میں گزشتہ روز بین الاقوامی کھجور کانفرنس اور نمائش کا چھٹا ایڈیشن بھرپور انداز میں شروع ہوا، یہ ایونٹ قومی مرکز برائے نخل وکھجور کی جانب سے شاہ سعود یونیورسٹی کے احاطے میں منعقد کیا جا رہا ہے اور 25 نومبر سے 4 دسمبر 2025 تک جاری رہے گا۔

افتتاحی دن ہی ملکی وغیر ملکی ماہرین، کسانوں، سرمایہ کاروں اور نمائش کنندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اس تقریب کی اہمیت کو نمایاں کردیا۔

مزید پڑھیں: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا

نمائش میں سعودی عرب کے تمام علاقوں کے خصوصی پویلین نمایاں رہے، جہاں آنے والوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ اسی موقع پر الاحساء کے کھجور بازار کے شیخ اور تجارتی تحکیم کے ماہر عبدالحمید زید نے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ یہ نمائش اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی کھجوریں آج عالمی سطح پر مضبوط مقام حاصل کرچکی ہیں اور اب 133 ممالک میں باقاعدگی سے برآمد ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کھجور کی کاشت اور تجارت نے گزشتہ 50 برس میں حیران کن ترقی کی، جس کا سہرا مکمل طور پر سعودی وژن 2030 کے تحت فراہم کردہ حکومتی تعاون کو جاتا ہے۔

ان کے مطابق مملکت میں کھجور کی 400 سے زائد اقسام موجود ہیں، جو سعودی عرب کو دنیا کے بڑے پیداواری اور برآمدی ممالک میں شامل کرتی ہیں۔

عبدالحمید زید نے اس سال کی نمائش میں نمایاں بہتری، جدید سہولیات اور انتظامات کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوے کہا کہ عوام، غیر ملکی مہمانوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوے نمائش کے ایام میں توسیع ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: ’القابل گاؤں‘ کھجوروں کا نخلستان اور مٹی کے مکانات کا مسکن

کانفرنس کے سائنسی حصے کا انعقاد کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس وتکنیک (کاوسٹ) کے تعاون سے کیا جا رہا ہے، اور اس کانفرنس کا مقصد اس اہم زرعی شعبے کے کردار کو نمایاں کرنا ہے، جو قومی غذائی تحفظ اور پائیداری کے اہداف کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

نمائش روزانہ 4 بجے شام سے 11 بجے رات تک عوام کے لیے بلا معاوضہ کھلی ہے، اور اس میں وسیع سرگرمیاں شامل ہیں جن میں سعودی علاقوں کی شناخت پیش کرنے والے پویلین، آزاد نمائش کنندگان کے اسٹال، مقامی وعالمی شیفس کی نگرانی میں لائیو ککنگ اور ٹیسٹنگ زون، کھجور سے تیار کردہ پکوان پیش کرنے والے ریستوران وکیفے، دستکاری کا گوشہ، اور کھجور کے درخت کا ورثہ میوزیم شامل ہے جو کھجور کی کاشت اور صنعت کی تاریخ کو محفوظ کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الاقوامی کھجور کانفرنس ونمائش ریاض سبق اخبار شاہ سعود یونیورسٹی کھجور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الاقوامی کھجور کانفرنس ونمائش ریاض شاہ سعود یونیورسٹی کھجور کھجور کی

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی