غزہ میں تباہ کن بارشیں: ہزاروں خیمے ڈوب گئے، سردی نے زندگی اجیرن بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
غزہ میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے پہلے سے بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سیلابی پانی نے ہزاروں خیموں کو ڈبو دیا ہے جس کے باعث مقامی خاندان شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق غزہ کی تقریباً 20 لاکھ آبادی میں سے بڑی تعداد اسرائیلی حملوں کے دوران اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے۔
جنگ بندی کے بعد بھی لوگ عارضی خیموں اور پناہ گاہوں میں انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ علاقے کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔
بے گھر فلسطینی خاتون ام احمد عوضہ نے کہا کہ سردیوں کا آغاز ہے مگر بارشوں اور سیلاب نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نئے خیمے یا ترپال فراہم نہیں کی گئیں اور موجودہ سامان دو سال پرانا ہونے کے باعث تباہ ہو چکا ہے۔
فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا کے مطابق تقریباً 15 لاکھ بے گھر افراد کے لیے کم از کم 3 لاکھ نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے۔
فلسطینی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے شدید بارشوں کے دوران ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے جبکہ کچھ مکمل طور پر بہہ بھی گئے۔ ساحلی علاقوں میں پانی کی سطح 40 سے 50 سینٹی میٹر تک بلند ہو گئی، جس سے ایک فیلڈ ہسپتال کو بھی عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ سرد موسم کے مطابق امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسرائیلی پابندیوں کے باعث امدادی ٹرکوں کی تعداد محدود ہے۔
غزہ کے حکام اور امدادی اداروں کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل ضروری اشیا کو داخل ہونے سے روک رہا ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے تحت تمام وعدے پورے کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔