شوہر نے ایک ارب کی لاٹری جیتنے کی خبر بیوی سے چھپالی، چونکا دینے والی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
جاپان میں ایک 66 سالہ شخص نے لاٹری سے 60 کروڑ ین (ایک ارب پاکستانی روپے سے زائد) جیتنے کے بعد اپنی اہلیہ سے یہ رقم خفیہ رکھی اور خفیہ طور پر پرتعیش زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔
جاپانی میڈیا کے مطابق مذکورہ شخص، جسے ’ایس‘ کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، ٹوکیو میں اپنی بیوی کے ساتھ رہائش پذیر ہے اور دونوں کی مجموعی پنشن 3 لاکھ ین بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایس کی اہلیہ نہایت کفایت شعار تھیں اور شادی کے بعد انہوں نے شوہر کو باہر کھانا، غیر ضروری خرچ اور مہنگی چیزوں سے سختی سے روکے رکھا۔ اسی وجہ سے ایس نے لاٹری جیتنے کی اصل رقم بتانے کے بجائے صرف 50 لاکھ ین کا ذکر کیا اور باقی رقم خفیہ رکھ لی۔
ایس نے اعتراف کیا کہ لاٹری جیتنا اس کے لیے حیران کن تھا اور وہ کچھ وقت تک خوفزدہ بھی رہا۔ بعدازاں اس نے خفیہ طور پر ایک لگژری گاڑی خریدی، مختلف ریزورٹس میں قیام کیا اور جاپان بھر کا سفر کرتے ہوئے چھ ماہ میں ایک کروڑ 80 لاکھ ین خرچ کیے۔ شک سے بچنے کے لیے وہ روزانہ نئی گاڑی کو زیرِ زمین پارکنگ میں چھپا دیتا اور پرانے کپڑے پہن کر گھر جاتا۔
پرتعیش مگر خفیہ زندگی گزارنے کے باوجود اسے تنہائی، پچھتاوے اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہونے لگا۔ ایس نے بتایا کہ اگر یہ رقم اس نے محنت سے کمائی ہوتی تو وہ فخر محسوس کرتا، مگر اچانک ملی دولت نے اس کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا۔
بعدازاں اس نے ایک ماہرِ نفسیات سے مشاورت کی اور 50 کروڑ ین کی انشورنس پالیسیاں اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام سے خرید کر خاندان کے مستقبل کے لیے مالی تحفظ یقینی بنانے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔