آسٹریلوی سینیٹر پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر پابندی کے حق میں احتجاج کرنے پر معطل
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انتہا پسند آسٹریلوی سینیٹر پالین ہنسن کو پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر مسلمانوں کے اس روایتی لباس پر پابندی کے حق میں احتجاج کرنے پر ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پیر کے روز آسٹریلوی سیاستدان پالین ہنسن کی اس حرکت پر دیگر سینیٹرز نے شدید تنقید کی اور بعد ازاں انہیں رسمی طور پر سرزنش بھی دی گئی، جبکہ ایک ساتھی سینیٹر نے ان پر ’نسل پرستانہ رویہ‘ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
کویینز لینڈ سے تعلق رکھنے والی ہنسن ’ون نیشن‘ پارٹی کی رکن ہیں اور وہ ایک بل متعارف کرانے کی کوشش کر رہی تھیں جس میں عوام میں مکمل چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی عائد کی جا سکے۔ وہ برسوں سے اس پالیسی کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔
یہ دوسرا موقع ہے جب انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ لباس پہن کر احتجاج کیا اور انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد سینیٹ میں ان کے بل کے مسترد ہونے کے جواب میں اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا۔
مسلم گرینز کی سینیٹر مہِرین فاروقی نے ہنسن کو ’نسل پرست‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام بظاہر مذہب کی بنیاد پر تنقید اور مذاق اڑانے کے لیے کیا گیا۔
گزشتہ سال وفاقی عدالت نے مہرین فاروقی کو ہنسن کی جانب سے نسلی امتیاز کا سامنا کرنے والا قرار دیا تھا، جس کے فیصلے کے خلاف ہنسن اپیل کر رہی ہیں۔ ویسٹرن آسٹریلیا کی آزاد سینیٹر فاطمہ پیمن نے بھی ہنسن کی حرکت کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔
منگل کو وزیر خارجہ اور سینیٹ کی رہنما پینی وونگ نے ہنسن کی سرزنش کے لیے قرارداد پیش کی، جو 55 ووٹوں کے مقابلے میں 5 ووٹوں سے منظور ہو گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ہنسن کا اقدام مسلم آسٹریلیوی شہریوں کی بے ادبی اور مذہب کی بنیاد پر تنقید کا باعث تھا۔ ہنسن نے فیس بک پر بیان دیا کہ اگر انہیں برقعہ نہ پہننے کی ہدایت دی جاتی ہے تو بہتر ہے کہ اس پر پابندی لگا دی جائے۔
یاد رہے کہ ہنسن نے پہلے بھی 2017 میں پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر قومی سطح پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا اور 2016 میں اپنی پہلی تقریر میں مسلمانوں کے حوالے سے متنازعہ بیانات دیے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ میں پر پابندی ہنسن کی پہن کر کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔