پاکستان میں برآمدات کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کی قیادت میں اہم اصلاحاتی اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پاکستان کے وزیراعظم کے زیر قیادت نجی شعبے کے اراکین پر مشتمل ورکنگ گروپس نے برآمدات پر مرکوز اہم سفارشات پیش کی ہیں، جن کے نتیجے میں برآمدات کے فروغ کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ
برآمدات پر عائد 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا، جس سے برآمد کنندگان کو براہِ راست مالی فائدہ اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ جاتی بہتری حاصل ہوگی۔
وزیرِ خزانہ کے مشیر خُرم شہزاد نے ’ایکس‘ کی گئی اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ نجی شعبے کے نمائندوں کی قیادت میں ایک عبوری اسٹیئرنگ کمیٹی PKR 52 ارب کی دستیاب ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کے استعمال کی نگرانی کرے گی۔
Major Policy Decision for Pakistan’s Exports
Only days ago, some commentary questioned the Prime Minister’s decision to form private-sector-led Working Groups.
The speed of the first export-focused outcomes now speaks for itself. It underlines the value of structured, credible…
— Khurram Schehzad (@kschehzad) November 25, 2025
EDF کے وسائل صرف برآمدات کی مقابلہ جاتی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال ہوں گے، جیسے تحقیق و ترقی، ہنر کی تربیت، پیداواری صلاحیت اور مارکیٹ کو فعال کرنے والے اقدامات، جبکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا جائے گا۔
خرم شہزاد کے مطابق یہ اقدام برآمدات کو قومی ترجیح قرار دینے کا واضح اصلاحاتی پیغام ہے۔ برآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ان کے فروغ کی جانب رجحان ظاہر کیا گیا ہے۔
نجی شعبے کی قیادت میں اصلاحات کی تشکیل اور حکومت کے وسائل کا ہدف صرف اثرانداز اور مقابلہ جاتی صلاحیت بڑھانے والے شعبے ہیں۔ EDF کے گزشتہ پانچ سال کے ریکارڈ کا بین الاقوامی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے گا اور بہتر EDF گورننس کے لیے نجی شعبے کے سربراہ کی قیادت ہوگی۔
برآمد کنندگان کی بہتر معاونت اور عالمی مارکیٹنگ کے لیے TDAP کی تنظیم نو بھی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی کے چیئرمین عہدے سے مستعفی
مشیر خزانہ کے مطابق یہ حکومت اور نجی شعبے کے تعاون سے برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اصلاحاتی اقدام ہے۔ دیگر شعبوں میں ٹیکس، توانائی اور پاور ٹیرف پر نجی شعبے کی قیادت میں ورکنگ گروپس پہلے ہی سفارشات پیش کر رہے ہیں، جس سے پائیدار مقابلہ جاتی صلاحیت، سرمایہ کاری میں اضافہ اور برآمدات پر مبنی مستحکم ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ایکسپورٹ خرم شہزاد مشیر خزانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ایکسپورٹ کی قیادت میں مقابلہ جاتی نجی شعبے کے برآمدات پر کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔