بنگلہ دیش 21 ویں جنرل کانفرنس آف دی یونائیٹڈ نیشنز انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (UNIDO) میں بھرپور شرکت کر رہا ہے، جو 23 سے 27 نومبر تک ریاض میں جاری ہے۔ اس سال کی کانفرنس کا موضوع ’گلوبل انڈسٹریل سمٹ 2025‘ہے۔ بنگلہ دیشی وفد کی قیادت فارن سیکرٹری اسد عالم سیام کر رہے ہیں۔

صنعتی ترقی کے لیے درپیش رکاوٹیں

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فارن سیکریٹری اسد عالم سیام نے عالمی مارکیٹ میں ترقی پذیر ممالک جیسے بنگلہ دیش کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ خاص طور پر مارکیٹ تک رسائی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے مسائل نمایاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ہائی کمشنر کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی ایئرچیف سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ منزل کے ممالک میں نئے معیارات اور تقاضے صنعتی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک کی مینوفیکچرنگ ویلیو چین میں ترقی کی صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں۔

ٹیرفس اور غیر ٹیرف رکاوٹیں

فارن سیکریٹری نے خبردار کیا کہ جب تک ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں (NTBs) کم نہیں کی جاتیں، ترقی پذیر ممالک غربت میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار صنعتی ترقی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کریں گے۔

یو این آئی ڈی او کی حمایت کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب میں صنعتی ترقی کے لیے یو این آئی ڈی او کی مالی معاونت میں اضافہ ضروری ہے۔

اسد عالم سیام نے ماحولیات کی پائیداری، موسمیاتی لچک، فضلہ کے انتظام، اور سرکلر اکانومی جیسے شعبوں میں یو این آئی ڈی او کے تعاون کا خیرمقدم کیا اور بنگلہ دیش کے لیے اس کی مسلسل حمایت کو سراہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسد عالم سیام بنگلہ دیش ریاض سعودی عرب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسد عالم سیام بنگلہ دیش ریاض یو این آئی ڈی او اسد عالم سیام صنعتی ترقی بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ