ریاض میں یو این آئی ڈی او کانفرنس، بنگلہ دیش کی صنعت کے چیلنجز پر زور
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش 21 ویں جنرل کانفرنس آف دی یونائیٹڈ نیشنز انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (UNIDO) میں بھرپور شرکت کر رہا ہے، جو 23 سے 27 نومبر تک ریاض میں جاری ہے۔ اس سال کی کانفرنس کا موضوع ’گلوبل انڈسٹریل سمٹ 2025‘ہے۔ بنگلہ دیشی وفد کی قیادت فارن سیکرٹری اسد عالم سیام کر رہے ہیں۔
صنعتی ترقی کے لیے درپیش رکاوٹیںکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فارن سیکریٹری اسد عالم سیام نے عالمی مارکیٹ میں ترقی پذیر ممالک جیسے بنگلہ دیش کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ خاص طور پر مارکیٹ تک رسائی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے مسائل نمایاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ہائی کمشنر کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی ایئرچیف سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ منزل کے ممالک میں نئے معیارات اور تقاضے صنعتی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک کی مینوفیکچرنگ ویلیو چین میں ترقی کی صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں۔
ٹیرفس اور غیر ٹیرف رکاوٹیںفارن سیکریٹری نے خبردار کیا کہ جب تک ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں (NTBs) کم نہیں کی جاتیں، ترقی پذیر ممالک غربت میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار صنعتی ترقی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب میں صنعتی ترقی کے لیے یو این آئی ڈی او کی مالی معاونت میں اضافہ ضروری ہے۔
اسد عالم سیام نے ماحولیات کی پائیداری، موسمیاتی لچک، فضلہ کے انتظام، اور سرکلر اکانومی جیسے شعبوں میں یو این آئی ڈی او کے تعاون کا خیرمقدم کیا اور بنگلہ دیش کے لیے اس کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسد عالم سیام بنگلہ دیش ریاض سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسد عالم سیام بنگلہ دیش ریاض یو این آئی ڈی او اسد عالم سیام صنعتی ترقی بنگلہ دیش کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔