پولینڈ کا اسرائیل سے تاریخی غلط بیانی پر احتجاج، اسرائیلی سفیر طلب
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وارسا: پولینڈ اور اسرائیل کے درمیان ہولوکاسٹ سے متعلق تاریخی بیانیے کے معاملے پر نیا سفارتی تنازع کھڑا ہوگیا ہے، پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسواف سکوورسکی نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرکے اسرائیلی یادگاری ادارے یاد و شیم کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت اعتراض اٹھایا اور باضابطہ تصحیح کا مطالبہ کیا۔
(یاد و شیم ایک اسرائیلی ادارہ ہے جو ہولوکاسٹ کی تاریخ محفوظ کرتا ہے، اس پر تحقیق کرتا ہے اور نازی ظلم میں مارے گئے یہودیوں کی یادگاروں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔)
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق پولش وزارتِ خارجہ نے اسے تاریخی مسخ شدہ تاثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پوسٹ غلط طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہودیوں پر پابندی پولینڈ کی ریاست یا معاشرے نے لگائی، حالانکہ 1939 سے 1945 تک پورا پولینڈ نازی جرمنی کے قبضے میں تھا اور تمام سیاسی و سماجی نظام جرمن کنٹرول میں تھا۔
(پولش وزارتِ خارجہ یہ وہ سرکاری ادارہ ہے جو پولینڈ کے دوسرے ممالک سے تعلقات سنبھالتا ہے، سفیروں سے بات کرتا ہے)
تنقید کے بعد یاد و شیم نے پوسٹ کے نیچے ایک وضاحتی پیغام شامل کیا کہ بیج پہننے کا حکم جرمن حکام کے کہنے پر نافذ ہوا تھا بعد ازاں ادارے کے چیئرمین دانی دیان نے مزید وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ یاد و شیم کی تمام تحقیقی دستاویزات میں واضح ہے کہ پولینڈ اُس وقت مکمل طور پر جرمن قبضے میں تھا، کوئی بھی مختلف تاثر درست نہیں۔
خیال رہےکہ معاملہ اُس پوسٹ سے شروع ہوا تھا جو ایکس (سابق ٹوئٹر) پر شائع ہوئی، جس میں لکھا گیا تھا کہ پولینڈ وہ پہلا ملک تھا جہاں یہودیوں کو شناختی بیج پہننے پر مجبور کیا گیا تاکہ انہیں باقی آبادی سے الگ کیا جاسکے، پوسٹ میں نہ تو نازی جرمن قبضے کا ذکر تھا نہ یہ واضح کیا گیا کہ یہ پابندی جرمن حکام نے مسلط کی تھی، جس پر وارسا میں فوری ردعمل سامنے آیا۔
واضح رہےکہ پولینڈ اس موقف پر قائم ہے کہ وہ مکمل طور پر جرمن قبضے میں تھا، بطور ریاست اس نے کبھی نازیوں سے تعاون نہیں کیا اور تین ملین پولش یہودیوں سمیت لاکھوں شہری مارے گئے۔
دوسری جانب اسرائیل کو خدشہ ہے کہ پولینڈ بعض اوقات تاریخ کا مکمل تناظر بیان کرنے سے گریز کرتا ہے اور مقامی سطح پر یہودی دشمنی یا بعض تعاون کے واقعات کا ذکر کم کیا جاتا ہے حالانکہ مورخین ان واقعات پر تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
یاد رہےکہ جنگ سے پہلے پولینڈ تین ملین سے زائد یہودیوں کا گھر تھا، جہاں مذہبی، ثقافتی اور علمی سرگرمیوں سے بھرپور زندگی موجود تھی، ہولوکاسٹ نے اس تہذیبی ورثے کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا، جنگ کے بعد صرف ایک چھوٹا یہودی طبقہ باقی بچا جو کمیونسٹ دور میں بھی وقتاً فوقتاً یہودی دشمنی کا شکار ہوتا رہا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یاد و شیم کرتا ہے میں تھا
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی