متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ریلوے پروجیکٹ پر کام جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
غزہ جنگ بندی کے بعد متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ’’امن ریلوے‘‘ پر کام میں تیزی آگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ راہداری ایک عظیم ریلوے ٹریک کا حصہ ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک کا دیگر ممالک تک رسائی بھی آسان ہوجائے گی۔
اس راہداری میں ریلوے کے ساتھ ساتھ کمیونی کیشن کیبلز، پائپ لائنز اور توانائی کی ترسیلی لائنیں بھی شامل ہوں گی۔
اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے درمیان ریلوے منصوبے پر تعمیراتی بڑے پیمانے پر اور نہایت تیز رفتاری سے جاری ہے۔
Israeli Minister of Transport reveals the new supply route that bypasses Yemen's Red Sea Blockade.
Goods are shipped from India's Mundra Port to the UAE, and then transported to Israel through Saudi Arabia and Jordan via trucks. pic.twitter.com/JXC7zHSViX — The Cradle (@TheCradleMedia) February 15, 2024
ریلوے ٹریک کے متعدد حصوں پر انفراسٹرکچر تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں جب کہ کچھ بڑے حصے تعمیر ہوچکے ہیں۔
اس ریلوے ٹریک پر تیزی سے کام کی ایک وجہ یہ بھی بحیرہ احمر میں اسرائیل جانے والے جہازوں کو یمن میں حوثی نشانہ بنارہے ہیں۔
اس سے بچنے کے لیے اسرائیل نے ایک نیا روٹ مرتب کیا ہے۔ اب درآمدی اشیا بھارت کے مندرا پورٹ سے سمندر کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں داخل ہوگا اور وہاں سے سعودی عرب اور اردن کے راستے بذریعہ ٹرک اسرائیلی بندرگاہ حیفہ پہنچے گا۔
اسرائیلی بندرگاہ سے ان درآمدی اشیا کو یورپ اور امریکا برآمد کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو گزشتہ ہفتے وفد کے ہمراہ ایک خفیہ دورے پر ابوظہبی پہنچیں اور اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی ایک تکنیکی ٹیم نے منصوبے کا معائنہ بھی کیا۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ ہنگامی سفارتی کوششیں اس وقت تیز ہوئیں جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ فرانس اور ترکیہ ایک اور متبادل راہداری پر کام کر رہے ہیں جو اردن سے شام اور پھر لبنان کی بندرگاہ تک جائے گا۔
اگر ایسا ہوجاتا ہے تو اسرائیل مکمل طور پر اس منصوبے سے باہر ہو جائے گا اور اسرائیل کو بڑے پیمانے پر معاشی اور سیاسی لحاظ سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران نیتن یاہو حکومت نے سیاسی رابطے منجمد کر دیے تھے لیکن امارات نے بھارت، سعودی عرب اور اردن کے ساتھ بغیر اسرائیل کا انتظار کیے منصوبے پر کام جاری رکھا۔
Hebrew Channel 13 revealed footage of how Israel bypasses Yemen's Red Sea Blockade with the help of Arab countries — a land corridor for the delivery of cargo from the UAE to Haifa, via Saudi Arabia and Jordan. pic.twitter.com/ajrgl3eDfe
— The Cradle (@TheCradleMedia) February 1, 2024جس کے نتیجے میں ڈیزائن، راستے اور علاقائی معاہدوں پر کام بہت آگے بڑھ چکا ہے اور اب اسرائیل اس راہداری میں اپنی جگہ دوبارہ بنانے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے کیونکہ منصوبہ اب اس کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
اسرائیلی اور اماراتی حکام نے ایک مشترکہ انتظامی ادارہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو ٹرانزٹ، کنیکٹیویٹی اور ریلوے لائن کے باقی حصے کی تعمیر کی نگرانی کرے گا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس راہداری سے مستقبل میں جلدی خراب ہونے والی اشیا چند گھنٹوں میں اسرائیل پہنچ سکیں گی بشرطیکہ سعودی عرب اور یو اے ای اس کی اجازت دیں۔
واضح رہے کہ یہ منصوبہ دراصل امریکا نے 2018 میں تجویز کیا تھا اور بعد ازاں اسے India–Middle East–Europe Economic Corridor (IMEC) کا حصہ بنایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات پر کام
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ