اے ڈی بی نے بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کی نشاندہی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کی نشاندہی کر دی۔
اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں صرف 7 فیصد زمین زیر کاشت رہ گئی ہے، مسئلے کے حل کے لیے بلوچستان میں پانی اور موسم کا ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل نظام کا مقصد درست معلومات فراہم کرنا ہے، آٹومیٹک موسمیاتی اسٹیشنز سے بارش، درجۂ حرارت، ہوا کی رفتار کا درست ڈیٹا مل رہا ہے۔
اے ڈی بی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم مضبوط مالی پائیداری کے لیے منظور کی گئی
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسان اب موسمی ڈیٹا کی مدد سے اپنی آبپاشی کا شیڈول بہتر بنا سکتے ہیں، ڈیجیٹل نظام کی بدولت پانی کے ضیاع میں کمی اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان ڈیجیٹل نظام اب سیلاب اور خشک سالی کے خدشات کی بروقت پیشگوئی کر سکتا ہے، حکومت کو پانی کی منصفانہ تقسیم اور بہتر انتظام کے لیے قابل اعتماد معلومات مل رہی ہیں۔
مقامی لوگ تربیت کے بعد ان سسٹمز کو چلانے، سنبھالنے کی صلاحیت حاصل کر چکے، نئے ڈیمز اور نہری نظام کی تعمیر سے آبپاشی کے لیے پانی ملنے میں نمایاں بہتری آئی، شمسی ڈرپ آبپاشی نظام سے پانی کی بچت اور زراعت میں استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں ڈیجیٹل نظام پانی کی کہا گیا کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔