منوڑہ ہمالیہ کیس ،مندر میں ڈاؤمیڈیکل کالج کے 7 طلبہ ڈوب گئے،3 لاشیں نکال لی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
بیچ پر بال سے کھیل رہے تھے، بال اچھالنے پر گیند سمندرکی لہروں کے ساتھ چلی گئیجیسے لینے کیلئے ایک طالب علم گیا
وہ تیز اور اونچی لہروںکی نذرہوگیا، باقی اسے بچانے کیلئے حادثے کا شکار ہوگئے،سول ٹراما سینٹرمیںطالب علموں کی گفتگو
(رپورٹ: افتخار چوہدری)منوڑہ ہمالیہ کے مقام پرسمندرمیں نہاتے ہوئے ڈاؤمیڈیکل کالج کے فائل ایٔرکے ڈی 26 بیج کے 7طالب علم ڈوب گئے جن میں سے 3 طلب علم موقع پرجاں بحق ہوگئے جبکہ 3 طالب علموں کو بحفاظت ریسکیوکرلیا گیاجن میں سے ایک طالب علم کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ باہرڈاؤمیڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر صبا سہیل کو سول ٹراما سینٹر کی ایمرجنسی میں موجود طالب علموں نے بتایا ہے کہ وہ بیچ پر بال سے کھیل رہے تھے، بال اچھالنے پر گیند سمندرکی لہروں کے ساتھ چلی گئی جیسے لینے کے لیے ایک طالب علم گیا تو تیز اور اونچی لہروں نذرہوگیا، باقی طالب علم اسے بچانے کے لیے حادثے کا شکار ہوگئے۔ڈاؤمیڈیکل کالج کی انتظامیہ کا کہنا تھا 15 طالب علم انتظامیہ کی اجازت کے بغیرذاتی طورپرپکنک پرگئے تھے جہاں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا،جس میں 3 طالب علم جاں بحق اور3 طالب علموں کوریسکیو کرلیا گیا۔ایک طالب علم لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق ماڑی پور تھانے کے علاقے منوڑہ ہمالیہ کے مقام پرسمندرمیں نہاتے ہوئے ڈاؤمیڈیکل کالج کے فائل ایٔرکے ڈی 26 بیج کے 7 طالب علم ڈوب گئے جن میں سے 3 طلب علم موقع پرجاں بحق ہوگئے جبکہ تین طالب علموں کونیم بیہوشی کی حالت میں سمندرسے ریسکیوکرکے پہلے قریبی نجی کلینک اوربعد ازاں ایدھی ایمبولینسوں کے ذریعے سول ٹراما سینٹرل منتقل کردیا گیا۔ایک بیہوش طالب علم کی حالت تشویشناک بنائی جا رہی ہے، سمندر میں ڈوب کرجاں بحق ہونے والے طالب علموں کی شناخت احمد کاشف،اشارب منیراورسید اشہد فاطمی شامل ہیں جبکہ نیم بہیوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیے جانے والے طلب علموں میں رضوان، ربیع اور عبدالمجید شامل ہیں۔حادثے کی اطلاع ملنے پرجاں بحق ہونے والے طالب علموں کے اہلخانہ اورڈاؤمیڈیکل کالج کی انتظامیہ بھی سول اسپتال پہنچ گئی، مردہ خانے کے باہرڈاؤمیڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر صبا سہیل نے بتایا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج کے فائنل ایٔرطالب علم پکنک پرگئے تھے اوران کے آج وارڈ آف تھے۔ڈی 26 بیج کے تقریبا 150 طالبہ میڈیکل کالج کی انتظامیہ کے ہمراہ سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ اور اپنے پوائنٹ بسوں میں ہاکس بے پکنک پر گئے تھے اور تمام طالبہ پکنک پربحفاظت واپس آگئے اورتمام طلبہ محفوظ ہیں۔تقریباً2 بجے کے قریب اطلاع ملی کہ کچھ طالب علموں کے ساتھ افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے معلوم کرنے پرعلم ہوا کہ فائنل ایٔرکے ہی 15طالب علموں نے اپنے اورذاتی طورپرانتظامیہ کی اجازت لیے بغیرمنوڑہ ہمالیہ کے مقام پرپکنک پرگئے تھے۔انھوں نے بتایا کہ ذاتی طورپر 15 طالب علم پکنک پرگئے تھے جن میں سے 3 طالب علموں کی میتیں ہمیں موصول ہوئی ہیں 2 طالب علم سول ٹراما کی ایمرجنسی اورایک طالب علم میڈیکل آئی سی یومیں زیرعلاج ہے۔انھوں نے بتایا کہ ایک طالب علم لا پتہ ہے جس کی تلاش کی جا رہی ہے،انھوں نے بتایا کہ حادثے میں ایک طالب علم کے علاوہ جاں بحق اوردیگرمتاثرہ تمام طالب علموں کے اہلخانہ سے رابطہ ہو گیا ہے۔میڈیکل آئی سی یو میں زیر علاج طالب علم عبدالمجید کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اب تک ان سے رابطہ نہیں ہوپا رہا ہے،ڈاؤمیڈیکل کالج کی پرنسپل نے واقعے کو بڑا سانحہ اور ایک سیاہ دن قراردیا۔ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹرخالد بخاری نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق تین طالب علموں کی میتیں سول ٹراما سینٹر لائی گئیں تھی جبکہ تین 3 متاثرہ طالب علموں کولایا گیا تھا جن میں سے 2 طالب علموں کی حالت خطرے سے باہر اورایک طالب علم کی حالت تشویشناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: میڈیکل کالج کے طالب علموں کی ایک طالب علم نے بتایا کہ سول ٹراما گئے تھے پکنک پر کی حالت کے ساتھ
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔