اگر مایہ ناز فرانسیسی ڈرامہ نگار، شاعر اور اداکار مولیئر اسٹیج پر اپنا ڈرامہ ’دی امیجِنری اِنویلڈ‘ ادا کرتے ہوئے گر کر جاں بحق نہ ہوتے تو اُن کا اگلا کھیل کیا ہوسکتا تھا؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے فرانسیسی ماہرین، فنکاروں اور ایک اے آئی کمپنی نے مشترکہ کوشش کی ہے۔

اس تحقیق کا نتیجہ ایک نئے مزاحیہ ڈرامے ’فالس اومین‘ یعنی جھوٹے شگون کی صورت میں سامنے آیا ہے جو اگلے برس پیلس آف ورسائی میں پیش کیا جائے گا—وہی محل جہاں صدیوں قبل مولیئر کے سرپرست بادشاہ لوئی چہار دہم دربار لگایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہنگری کے مصنف لازلو کراسناہورکائی ادب کے نوبیل انعام کے حقدار قرار

منصوبے سے وابستہ محقق ہیوگو کیسلیس-ڈوپرے کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوچا کیوں نہ موج ودہ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے مولیئر کے تخلیقی عمل کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کی جائے۔

فرانسیسی ثقافت کی نمائندہ شخصیت

فرانس میں مولیئر کو ایک علامتی حیثیت حاصل ہے، یہاں تک کہ فرانسیسی زبان کو کبھی کبھار ’مولیئر کی زبان‘ بھی کہا جاتا ہے، اُن کے ڈرامے، جو طنزیہ مزاح اور سماجی تبصرے سے بھرپور ہوتے ہیں، فرانسیسی اسکولوں میں پڑھائے جاتے ہیں اور فرانسیسی دنیا بھر میں باقاعدگی سے اسٹیج کیے جاتے ہیں۔

Scholars and AI artists in Paris used artificial intelligence to write a play in the style of Moliere, the renowned 17th-century playwright https://t.

co/Tc1k3epXHD pic.twitter.com/cQ3SoKggBo

— Reuters (@Reuters) November 19, 2025

لوئی چہار دہم کی سرپرستی کے باوجود مولیئر نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سختیوں میں گزارا اور 51 برس کی عمر میں تھکن کے باعث وفات پاگئے، پیچھے یہ سوال چھوڑتے ہوئے کہ اُن کا اگلا طنزیہ نشانہ کون ہوتا؟

فرانسیسی کمپنی مسٹرال اے آئی کی سرپرستی میں جاری منصوبہ کاروں کے مطابق، ممکن ہے کہ وہ اس بار نجومیوں کو نشانہ بناتے۔

ڈرامے کے ڈائریکٹر اور آرٹ ہسٹو‌رین میکائل بوفارڈ کے مطابق انہوں نے تلاش کیا کہ مولیئر کس نوعیت کا کھیل لکھ سکتے تھے۔ ’ان کے کام میں ایک موضوع جو بار بار مگر بڑے لطیف انداز میں سامنے آتا ہے، وہ ہے نجومیات۔‘

ڈرامے کی کہانی

نیا ڈرامہ ایک بھولے بھالے رئیس جیرونت کے گرد گھومتا ہے جو ایک دھوکے باز نجومی کے جھانسے میں آجاتا ہے، یہ نجومی جیرونت کی بیٹی کی شادی ایک فریبی وگ بنانے والے شخص سے کرانے کی سازش کرتا ہے، حالانکہ بیٹی کسی اور سے محبت کرتی ہے۔

اے آئی پر مکمل انحصار؟

ڈرامے کا متن بنانے میں اے آئی نے مدد تو کی، مگر محققین نے تاریخی غلطیوں اور دیگر خامیوں کی باقاعدہ اصلاح کی۔

اس عمل نے ماہرین کو مولیئر کی فنی تکنیک کو ساڑھے تین صدی بعد مزید گہرائی سے سمجھنے میں مدد دی۔

ڈائریکٹر میکائل بوفارڈ کے مطابق انہوں نے مولیئر کے بارے میں وہ چیزیں سیکھیں جو پہلے ان کی نظر سے اوجھل تھیں کیونکہ وہ اُن کے کام میں بہت بکھری ہوئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرٹ ہسٹو‌رین اداکار پیلس آف ورسائی ڈرامہ نگار شاعر فرانسیسی مولیئر نجومی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آرٹ ہسٹو رین اداکار پیلس آف ورسائی ڈرامہ نگار مولیئر اے آئی

پڑھیں:

جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر

پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی

ڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا

فرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔

مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور

پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔

نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرار

پراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھے

فرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔

جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحت

ڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو

تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔

فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موت

ڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔

امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس

بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل

متعلقہ مضامین

  • فیس بک کا ٹک ٹاک کو ٹکر دینے کے لیے فل اسکرین ویڈیو فیڈ کا تجربہ
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت