ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک، پہاڑی علاقوں میں شدید سردی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
جمعرات اور جمعہ کے روز ملک کے بیشتر علاقے خشک رہیں گے، شمالی اور پہاڑی علاقوں میں شدید سردی، پنجاب کے میدانی علاقوں میں اسموگ اور ہلکی دھند جبکہ شمالی اور پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید سردی متوقع ہے۔
محمکہ موسمیات کے مطابق مری، گلیات، گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسم خشک رہنے کے ساتھ شدید سردی کا امکان ہے۔ رات کے اوقات میں درجہ حرارت مزید کم ہو سکتا ہے، جس کے سبب عوام کو سردیوں سے متعلق حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: شدید خشک سالی: رواں سال بارش نہ ہوئی تو تہران کو خالی کرانا پڑسکتا ہے، صدر مسعود پزشکیان
پنجاب کے میدانی علاقوں میں اسموگ کے امکانات ہیں۔ صبح اور رات کے اوقات میں چند مقامات پر ہلکی دھند بھی پڑ سکتی ہے، جس کے باعث ڈرائیور حضرات سے محتاط رہنے کی درخواست کی گئی ہے۔
کم سے کم درجہ حرارت (گذشتہ 24 گھنٹے):
لیہہ: منفی 07°C
اسکردو: منفی 06°C
مزید پڑھیں: طوفانی بارش دمہ کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، تحقیق
گلگت اور زیارت: منفی 03°C
قلات: منفی 02°C
کوئٹہ اور استور: منفی 01°C
جمعرات اور جمعہ کے دوران صوبہ کے زیادہ تر اضلاع میں موسم خشک رہے گا۔ مری، گلیات اور گرد و نواح میں سرد موسم کے ساتھ خشکی برقرار رہے گی۔
گلگت بلتستان اور کشمیر میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید سردی، جبکہ دن کے اوقات میں ہلکی دھوپ کے ساتھ موسم خوشگوار رہنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: محمکہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی نوید سنا دی
پنجاب کے میدانی علاقوں میں دھند اور سموگ کے باعث ٹریفک کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کی ہدایات:عوام خصوصاً شمالی اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد سردیوں سے بچاؤ کے اقدامات کریں، جبکہ ڈرائیور حضرات صبح اور رات کے اوقات میں دھند یا اسموگ کے دوران احتیاط کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش شدید سردی محمکہ موسمیات موسم خشک،.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محمکہ موسمیات پہاڑی علاقوں میں رات کے اوقات میں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔