سادگی میں زیبائی، ایرانی یونیورسٹیوں کا نیا زاویۂ نظر
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ تعلیم کے ثقافتی اور اجتماعی امور کے مسئول وحید شالچی نے اس حوالے سے فارس نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں ’’سادگی میں زیبائی‘‘ اور ’’مختلف طرزِ زیبائی‘‘ جیسے رجحانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر کی دانشمند خواتین ثقافتی تفاوت کے باوجود ایک علمی و جامعاتی نوع کے پردے اور حجاب پر کاربند رہتی ہیں، کیونکہ ہر اجتماعی ماحول اپنے خاص تقاضے رکھتا ہے۔ خصوصی رپورٹ:
اسلامی جمہوریہ ایران میں جامعات نے 16 تعلیمی یونٹوں کی بنیاد پر ایسی فضا فراہم کی ہے جہاں خواتین کی فکر، علم اور اخلاق کا اظہار ممکن ہو سکے، تاکہ عورت کی قدر و منزلت سطحی و ظاہری خوبصورتی کے معیار کی بجائے انسانی کرامت کے پیمانے سے متعین ہو۔ آج کے تیزرفتار دور میں جہاں ثقافتی سرحدیں دھندلا چکی ہیں اور انسٹاگرامی نظریہ، مغرب کی فیمینسٹ تحریکیں اور عورتوں کو محض اشیائے صرف کے طور پر دیکھنے والی تشہیری مہمات ’’آزادی‘‘ اور ’’نسوانی شناخت‘‘ جیسے مفاہیم کو بدل چکی ہیں، وہاں عورت کو ایک ایسے درجے تک محدود کر دیا گیا ہے جو محض اشیا کی تشہیر اور نگاہوں کو متوجہ کرنے کا وسیلہ بن جائے۔
اس کے باوجود عورت گویا فریاد کرتی ہے کہ ’’میری حقیقت میرے ظاہر سے فراتر ہے، مجھے میری فکر، میرے اخلاق اور میری انسانی شناخت سے پہچانو۔‘‘ ایسے ماحول میں جہاں میڈیا کی پیچیدہ اور متنوع یلغاریں حجاب کے معنی کو مسخ کرنے اور اس کے مقام کو کمزور کرنے کی کوشش میں نسلِ نو کے ذہن و دل کو نشانہ بنا رہی ہیں، جامعات ایک منطقی و صحت مندانہ گفتگو کے میدان اور خواتین کی علمی، سماجی اور فنّی فعالیت کی حمایت کے ذریعے یہ حقیقت آشکار کر سکتی ہیں کہ عورت کی اصل قدر اس کی فکر، اس کے علم اور اس کے اخلاق میں ہے نہ کہ اس کے ظاہری جمال میں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ تعلیم کے ثقافتی اور اجتماعی امور کے مسئول وحید شالچی نے اس حوالے سے فارس نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں ’’سادگی میں زیبائی‘‘ اور ’’مختلف طرزِ زیبائی‘‘ جیسے رجحانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر کی دانشمند خواتین ثقافتی تفاوت کے باوجود ایک علمی و جامعاتی نوع کے پردے اور حجاب پر کاربند رہتی ہیں، کیونکہ ہر اجتماعی ماحول اپنے خاص تقاضے رکھتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ آخر خواتین کے حجاب کے بجائے مرد کیوں اپنی نگاہ کی حفاظت نہیں کرتے، شالچی کا کہنا ہے کہ دونوں کی ذمہ داریاں موجود ہیں، مردوں کو نگاہ کی حفاظت کرنی چاہیے اور خواتین کو بھی ہر ماحول کے اخلاقی کوڈ کے مطابق لباس اختیار کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق زیادہ تر طلبہ خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں عملاً یہی اصول اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ حجاب اور پردے کے ضوابط علمی یا ثقافتی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ حجاب کا اہتمام کرتے ہوئے بھی جامعات میں موجود تحقیق و تعلیم کی توانائیوں سے بھرپور استفادہ ممکن ہے۔ وزارت تعلیم کے معاون وزیر کے مطابق جامعات میں متعدد دروس موجود ہیں جن کا بنیادی مقصد ہی اس نوع کے سوالات کے جواب دینا ہے۔ تقریباً 16 درسی یونٹ ایسے ہیں جو دینی تعلیمات پر مرکوز ہیں، اسی کے ساتھ آزاداندیشی کی نشستیں اور سیکڑوں تدریجی ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جو اس موضوع پر فکری و اخلاقی گفتگو کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: موجود ہیں دنیا بھر کے مطابق
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔