Islam Times:
2026-07-24@02:35:22 GMT

سوڈان اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

سوڈان اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ

اسلام ٹائمز: سوڈان کے بارے میں ایک اور بات یہ ہے کہ حال ہی میں شائع ہونیوالی لبنانی "الاحد" رپورٹ میں دارفور میں ریپڈ ری ایکشن فورسز کے تشدد کا غزہ میں اسرائیلی نسل پرست فوج کے رویئے سے موازنہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سوڈان میں پیشرفت ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جسے "گریٹر اسرائیل پروجیکٹ" کہا جاتا ہے۔ مصنف کے مطابق، سوڈانی ملیشیا کے کمانڈروں اور لیبیا کے حفتر اور امارات جیسے علاقائی کھلاڑیوں کے درمیان رابطے، صہیونی حکام کے ساتھ انکی ملاقاتیں اور اسکے ساتھ ساتھ بالواسطہ امریکی حمایت، یہ سب سوڈان کی مرکزی اتھارٹی کو کمزور کرنے اور اسے تقسیم کرنے کی گہری سازش ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

اقوام متحدہ میں خواتین کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ سوڈانی شہر الفاشر پر ریپڈ ری ایکشن فورسز کے قبضے کے بعد وہاں سے فرار ہونے والی خواتین نے شہر میں  منظم طریقے سے قتل، عصمت دری اور اپنے بچوں کی گمشدگی کی اطلاع دی ہے۔ تنظیم نے سوڈان میں خواتین کی تباہ کن صورتحال کے بارے میں بھی ہولناک خبر دی ہے۔ اسی دوران دارفور کے گورنر نے اعلان کیا کہ ریپڈ ایکشن فورسز میں 85 فیصد غیر ملکی ہیں۔ افریقی براعظم کے قلب میں، جہاں صحارا کی خشک ہوائیں خاموش لوگوں کے درد کی چیخوں میں گھل مل جاتی ہیں، سوڈان ایک ایسی انسانی تباہی کا منظر بن پیش کر رہا ہے، جس نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اقوام متحدہ، مقامی حکام اور دیگر سرکاری رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری بحران نہ صرف جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرچکا ہے بلکہ اس نے پیچیدہ جہتوں کا بھی انکشاف کیا ہے۔ منظم تشدد، غیر ملکی مداخلت اور عام شہریوں کی لامتناہی تکالیف، اگرچہ اس صورت حال کی جڑیں داخلی تنازعات میں پیوست ہیں، لیکن غیر ملکی عناصر کی مداخلت سے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور اب یہ مسئلہ بین الاقوامی المیہ بن چکا ہے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

عورتیں اور مظلوم بچے
سوڈان میں انسانی المیہ بدستور جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ خواتین نے منگل کے روز اعلان کیا کہ سوڈانی شہر الفاشر سے فرار ہونے والی خواتین نے شہر پر ریپڈ ایکشن فورسز کے قبضے کے بعد منظم طریقے سے قتل، عصمت دری اور اپنے بچوں کی گمشدگیوں کی گواہی دی ہے۔ ISNA کے مطابق، عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ  ریپڈ ایکشن فورسز کی طرف سے الفاشر پر قبضے کے بعد گولیوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ "الفاشر سے فرار ہونے والی خواتین نے اپنے بچوں کے قتل، عصمت دری اور گمشدگیوں کا مشاہدہ کیا ہے، ایسے سانحات جن کا تجربہ کسی بھی انسان کو نہیں ہونا چاہیئے،" مشرقی اور جنوبی افریقہ کے لیے اقوام متحدہ کی خواتین کی علاقائی ڈائریکٹر نے کہا کہ جنسی تشدد بڑے پیمانے پر اور منظم انداز میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے بہت زیادہ ثبوت ہیں کہ عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

شدید قحط کا سامنا کرنے والے دارفور میں تقریباً 11 ملین خواتین اور لڑکیاں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے خواتین کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کو خوراک کی تلاش کے دوران عصمت دری اور جنسی تشدد کا بھی خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 26 اکتوبر سے تقریباً 82,000 افراد الفاشر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے نقل مکانی کرچکے ہیں، جبکہ تقریباً 200,000 شہر کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جو کہ شہر کے مکمل سقوط سے پہلے 18 ماہ تک محاصرے میں تھے۔ اقوام متحدہ کی مشرقی اور جنوبی افریقہ کی خواتین کی علاقائی ڈائریکٹر انا مطافاتی نے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ بین الاقوامی برادری کارروائی میں ایک دن بھی تاخیر کرتی ہے، تو  عورتیں بمباری میں بچوں کو جنم دیں گی، بچے بھوک سے مریں گے، یا عورت انصاف تک رسائی کے بغیر غائب کر دی جائے گی۔"

سوڈان کی خانہ جنگی میں غیر سوڈانی کرائے کے فوجی!
دارفور کے گورنر آرکو مناوی نے المیادین کا بتایا ہے کہ "جسے ریپڈ ری ایکشن فورسز کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں 85 فیصد سے زیادہ غیر ملکی عناصر ہیں۔ جو ظلم و جور کا بازار گرم کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افواج کا تعلق پڑوسی ممالک سے ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے، جس کا شاید بہت سے لوگوں کو علم نہ ہو،" موجودہ سکیورٹی بحران کی بنیادی وجہ غیر ملکی جنگجو ملیشیا پر انحصار ہے۔ اس سے ملک کے مستقبل اور اتحاد کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ دارفور کے گورنر کا یہ تبصرہ ریپڈ ری ایکشن فورسز کی صفوں میں چاڈ، نائجر اور وسطی افریقی جمہوریہ سے کرائے کے فوجیوں کی شمولیت کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس بات کی تصدیق اقوام متحدہ کی پچھلی رپورٹس سے بھی ہوتی ہے، جن میں سوڈان کی مغربی سرحدوں پر ریپڈ ایکشن فورسز کی جانب سے جاری دراندازیوں کی تفصیل دی گئی تھی۔ اس دراندازی کی حمایت چند علاقائی ممالک نے کی تھی۔ یقیناً یہ بات بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ کولمبیا کی ملیشیا بھی اس جرم میں ملوث ہے۔ یہ کرائے کے فوجی، جو پیسوں کے لیے اس جنگ میں داخل ہوئے، سوڈان کو ریپڈ ری ایکشن فورسز کی طرف سے تباہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس ملٹی نیشنل گروپ کا سپانسر متحدہ عرب امارت ہے، جو ان وحشیوں کی مدد کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔

سوڈان "گریٹر اسرائیل" منصوبے کا نیا شکار 
سوڈان کے بارے میں ایک اور بات یہ ہے کہ حال ہی میں شائع ہونے والی لبنانی "الاحد" رپورٹ میں دارفور میں ریپڈ ری ایکشن فورسز کے تشدد کا غزہ میں اسرائیلی نسل پرست فوج کے رویئے سے موازنہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سوڈان میں پیش رفت ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جسے "گریٹر اسرائیل پروجیکٹ" کہا جاتا ہے۔ مصنف کے مطابق، سوڈانی ملیشیا کے کمانڈروں اور  لیبیا کے حفتر اور امارات جیسے علاقائی کھلاڑیوں کے درمیان رابطے، صہیونی حکام کے ساتھ ان کی ملاقاتیں اور اسکے ساتھ ساتھ بالواسطہ امریکی حمایت، یہ سب سوڈان کی مرکزی اتھارٹی کو کمزور کرنے اور اسے تقسیم کرنے کی گہری سازش ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ریپڈ ایکشن فورسز ایکشن فورسز کی گریٹر اسرائیل عصمت دری اور اقوام متحدہ سوڈان میں ہونے والی خواتین نے غیر ملکی سوڈان کی کہ سوڈان کے مطابق میں ایک کے ساتھ کے بعد کیا ہے اور اس

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار