Jasarat News:
2026-07-24@06:35:03 GMT

سوڈان کی جلتی دھرتی، انسانیت کی آخری پکار

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251112-03-6

 

دلشاد عالم

سوڈان، افریقا کے دل میں ایک سرزمین ہے جو کبھی زرخیزی، ثقافت اور امن کی علامت تھی، مگر آج وہی دھرتی آگ، راکھ اور چیخوں کا مرقع بن چکی ہے۔ نیل کے کنارے بسنے والا یہ ملک، جو کبھی تہذیبوں کے سنگم کی پہچان تھا، اب انسانی المیے کا استعارہ بن چکا ہے۔ افریقا کے وسط میں دھڑکتا یہ دل اب زخموں سے چور ہے، جلتے گاؤں، بھاگتے قافلے اور ماؤں کی آنکھوں میں ٹھیرے ہوئے خوف اس قوم کی داستانِ درد بیان کرتے ہیں۔ دارفور، جو کبھی زندگی کا مسکن تھا، آج موت اور محرومی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کے شور و شر میں شاید اس کی صدائیں دب گئیں مگر زمین کے ہر ذرے میں اب بھی وہ کہانیاں دفن ہیں جو انصاف، بقا اور انسانیت کی تلاش میں لکھی جا رہی ہیں۔ سوڈان کی جنگ کی جڑیں اْس وقت پیوست ہوئیں جب اقتدار، زمین اور نسلی تفریق نے ایک قوم کو بانٹ دیا۔ 1956 میں آزادی کے بعد سے ہی سوڈان میں طاقت کی کشمکش جاری رہی، شمال میں عرب و مسلم اکثریت تھی، جبکہ جنوب میں افریقی و عیسائی اقلیت۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہائیوں پر محیط خانہ جنگی کے بعد 2011 میں جنوبی سوڈان الگ ملک بن گیا۔ لیکن امن پھر بھی نہ آیا، کیونکہ مغرب میں دارفور کے علاقے میں ایک نیا طوفان اٹھ چکا تھا۔ وہاں کے باشندے مرکزی حکومت کی ناانصافی، وسائل کی ناہموار تقسیم اور نسلی امتیاز سے تنگ آ چکے تھے۔

2003 میں دارفور کے باشندوں نے مساوی حقوق کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ ’’سوڈان لبریشن آرمی‘‘ (SLA) اور ’’جسٹس اینڈ ایکوالٹی موومنٹ‘‘ (JEM) نے بغاوت کی، جس کے جواب میں حکومت نے عرب ملیشیا ’’جنجاوید‘‘ کو مسلح کیا۔ یوں وہ جنگ شروع ہوئی جسے دنیا نے ’’لینڈ کروزر وار‘‘ کا نام دیا، کیونکہ ٹویوٹا لینڈ کروزرز پر مشین گنز لگا کر جنجاوید کے جنگجوؤں نے گاؤں کے گاؤں جلا دیے۔ انسان، کھیت اور خواب، سب ایک ہی آگ میں جل گئے۔ دارفور کا یہ تنازع بندوقوں یا گاڑیوں کا نہیں بلکہ صدیوں پرانے نسلی، لسانی اور سیاسی تصادم کا نتیجہ تھا۔ ایک جانب عرب النسل گروہ تھے جو اقتدار کے قریب رہے، جبکہ دوسری طرف نان عرب افریقی قبائل، جو ہمیشہ محرومی کا شکار رہے۔ جب باغیوں نے 2003 میں الفاشر ائربیس پر حملہ کر کے حکومتی طیارے تباہ کیے تو حکومت نے عرب ملیشیا جنجاوید کو کھلی چھوٹ دے دی۔ دارفور کے گاؤں جل گئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، لاکھوں لوگ مارے گئے، اور تین ملین سے زائد بے گھر ہوئے۔

صدر عمر حسن البشیر کے خلاف بین الاقوامی عدالت ِ فوجداری نے نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں کوئی لرزہ نہ آیا۔ وقت گزرتا گیا، حکومتیں بدلتی رہیں، لیکن دارفور کی آنکھوں میں آنسو جوں کے توں رہے۔2019 میں جب عوام نے ظلم اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی، تو عمر البشیر کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ 11 اپریل 2019 کو وہ معزول کر دیا گیا۔ مگر امن کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی افق پر ایک نیا اندھیرا چھا گیا۔ فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے کمانڈر محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی۔ فوج چاہتی تھی کہ RSF کو ضم کر کے ایک قومی فوج بنایا جائے، لیکن حمیدتی اپنی خودمختاری پر بضد رہا، کیونکہ اسی میں اس کی طاقت اور دولت تھی۔ 2023 میں دونوں گروہوں کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی، اور سوڈان ایک نئی خانہ جنگی میں ڈوب گیا۔

آج خرطوم سے لے کر دارفور تک ہر گلی میں بارود کی بو ہے، ہر بستی میں ماتم ہے۔ لاکھوں لوگ چاد، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقا کی طرف ہجرت پر مجبور ہیں۔ وہی لینڈ کروزرز جو کبھی طاقت کی علامت تھیں، اب موت کے قافلے بن چکی ہیں۔ بچے خیموں میں جنم لیتے ہیں، مائیں اپنے گمشدہ بیٹوں کے انتظار میں پتھر ہو گئی ہیں، اور بوڑھے اپنی بستیوں کے ملبے پر بیٹھے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے مذمتی بیانات جاری کرتے ہیں، مگر دارفور کے بچے اب بھی خاک میں کھیلتے ہیں۔ عورتیں اب بھی اپنی شناخت تلاش کر رہی ہیں۔ مرد اب بھی ہجرت کے راستے پر لاشیں دفنا رہے ہیں۔ سوڈان کی جنگ کا حل صرف ایک ہے، انصاف۔اقتدار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔ دارفور، کردفان اور دیگر خطوں کو فیصلہ سازی میں حقیقی نمائندگی دینی ہوگی۔ جنگی جرائم کے تمام ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا تاکہ مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کو سیاسی چالوں کے بجائے امن کی دیانت دار کوشش کرنا ہوگی۔

دارفور کی آزمائش یہ بتاتی ہے کہ امن بندوق سے نہیں آتا، انصاف اور شراکت سے آتا ہے۔ جب تک زمین، پانی، وسائل اور اقتدار میں برابری نہیں ہوگی، تب تک کوئی امن دیرپا نہیں ہو سکتا۔ سوڈان کے دارفور میں آج بھی زمین پیاسی ہے، مگر پانی نہیں، خون سے تر ہے۔ مگر شاید اب بھی زندگی کی ایک کرن باقی ہے، وہ کرن جسے ظلم نے دبایا، مگر بجھا نہیں سکا۔ وہ دن ضرور آئے گا جب یہ جلتی ہوئی زمین دوبارہ سبز ہو گی، جب جنجاوید کی بندوقیں خاموش ہوں گی، جب بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں کتابیں ہوں گی، اور جب دارفور کے لوگ اپنے لہجے میں ایک نئے سورج کا نام لیں گے۔ یہی دن انصاف کا دن ہوگا، اور یہی دن اس خاموش سرزمین کی نئی صبح کا آغاز کرے گا۔

دلشاد عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دارفور کے جو کبھی اب بھی

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف