سوڈان کی جلتی دھرتی، انسانیت کی آخری پکار
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-03-6
دلشاد عالم
سوڈان، افریقا کے دل میں ایک سرزمین ہے جو کبھی زرخیزی، ثقافت اور امن کی علامت تھی، مگر آج وہی دھرتی آگ، راکھ اور چیخوں کا مرقع بن چکی ہے۔ نیل کے کنارے بسنے والا یہ ملک، جو کبھی تہذیبوں کے سنگم کی پہچان تھا، اب انسانی المیے کا استعارہ بن چکا ہے۔ افریقا کے وسط میں دھڑکتا یہ دل اب زخموں سے چور ہے، جلتے گاؤں، بھاگتے قافلے اور ماؤں کی آنکھوں میں ٹھیرے ہوئے خوف اس قوم کی داستانِ درد بیان کرتے ہیں۔ دارفور، جو کبھی زندگی کا مسکن تھا، آج موت اور محرومی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کے شور و شر میں شاید اس کی صدائیں دب گئیں مگر زمین کے ہر ذرے میں اب بھی وہ کہانیاں دفن ہیں جو انصاف، بقا اور انسانیت کی تلاش میں لکھی جا رہی ہیں۔ سوڈان کی جنگ کی جڑیں اْس وقت پیوست ہوئیں جب اقتدار، زمین اور نسلی تفریق نے ایک قوم کو بانٹ دیا۔ 1956 میں آزادی کے بعد سے ہی سوڈان میں طاقت کی کشمکش جاری رہی، شمال میں عرب و مسلم اکثریت تھی، جبکہ جنوب میں افریقی و عیسائی اقلیت۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہائیوں پر محیط خانہ جنگی کے بعد 2011 میں جنوبی سوڈان الگ ملک بن گیا۔ لیکن امن پھر بھی نہ آیا، کیونکہ مغرب میں دارفور کے علاقے میں ایک نیا طوفان اٹھ چکا تھا۔ وہاں کے باشندے مرکزی حکومت کی ناانصافی، وسائل کی ناہموار تقسیم اور نسلی امتیاز سے تنگ آ چکے تھے۔
2003 میں دارفور کے باشندوں نے مساوی حقوق کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ ’’سوڈان لبریشن آرمی‘‘ (SLA) اور ’’جسٹس اینڈ ایکوالٹی موومنٹ‘‘ (JEM) نے بغاوت کی، جس کے جواب میں حکومت نے عرب ملیشیا ’’جنجاوید‘‘ کو مسلح کیا۔ یوں وہ جنگ شروع ہوئی جسے دنیا نے ’’لینڈ کروزر وار‘‘ کا نام دیا، کیونکہ ٹویوٹا لینڈ کروزرز پر مشین گنز لگا کر جنجاوید کے جنگجوؤں نے گاؤں کے گاؤں جلا دیے۔ انسان، کھیت اور خواب، سب ایک ہی آگ میں جل گئے۔ دارفور کا یہ تنازع بندوقوں یا گاڑیوں کا نہیں بلکہ صدیوں پرانے نسلی، لسانی اور سیاسی تصادم کا نتیجہ تھا۔ ایک جانب عرب النسل گروہ تھے جو اقتدار کے قریب رہے، جبکہ دوسری طرف نان عرب افریقی قبائل، جو ہمیشہ محرومی کا شکار رہے۔ جب باغیوں نے 2003 میں الفاشر ائربیس پر حملہ کر کے حکومتی طیارے تباہ کیے تو حکومت نے عرب ملیشیا جنجاوید کو کھلی چھوٹ دے دی۔ دارفور کے گاؤں جل گئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، لاکھوں لوگ مارے گئے، اور تین ملین سے زائد بے گھر ہوئے۔
صدر عمر حسن البشیر کے خلاف بین الاقوامی عدالت ِ فوجداری نے نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں کوئی لرزہ نہ آیا۔ وقت گزرتا گیا، حکومتیں بدلتی رہیں، لیکن دارفور کی آنکھوں میں آنسو جوں کے توں رہے۔2019 میں جب عوام نے ظلم اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی، تو عمر البشیر کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ 11 اپریل 2019 کو وہ معزول کر دیا گیا۔ مگر امن کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی افق پر ایک نیا اندھیرا چھا گیا۔ فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے کمانڈر محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی۔ فوج چاہتی تھی کہ RSF کو ضم کر کے ایک قومی فوج بنایا جائے، لیکن حمیدتی اپنی خودمختاری پر بضد رہا، کیونکہ اسی میں اس کی طاقت اور دولت تھی۔ 2023 میں دونوں گروہوں کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی، اور سوڈان ایک نئی خانہ جنگی میں ڈوب گیا۔
آج خرطوم سے لے کر دارفور تک ہر گلی میں بارود کی بو ہے، ہر بستی میں ماتم ہے۔ لاکھوں لوگ چاد، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقا کی طرف ہجرت پر مجبور ہیں۔ وہی لینڈ کروزرز جو کبھی طاقت کی علامت تھیں، اب موت کے قافلے بن چکی ہیں۔ بچے خیموں میں جنم لیتے ہیں، مائیں اپنے گمشدہ بیٹوں کے انتظار میں پتھر ہو گئی ہیں، اور بوڑھے اپنی بستیوں کے ملبے پر بیٹھے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے مذمتی بیانات جاری کرتے ہیں، مگر دارفور کے بچے اب بھی خاک میں کھیلتے ہیں۔ عورتیں اب بھی اپنی شناخت تلاش کر رہی ہیں۔ مرد اب بھی ہجرت کے راستے پر لاشیں دفنا رہے ہیں۔ سوڈان کی جنگ کا حل صرف ایک ہے، انصاف۔اقتدار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔ دارفور، کردفان اور دیگر خطوں کو فیصلہ سازی میں حقیقی نمائندگی دینی ہوگی۔ جنگی جرائم کے تمام ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا تاکہ مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کو سیاسی چالوں کے بجائے امن کی دیانت دار کوشش کرنا ہوگی۔
دارفور کی آزمائش یہ بتاتی ہے کہ امن بندوق سے نہیں آتا، انصاف اور شراکت سے آتا ہے۔ جب تک زمین، پانی، وسائل اور اقتدار میں برابری نہیں ہوگی، تب تک کوئی امن دیرپا نہیں ہو سکتا۔ سوڈان کے دارفور میں آج بھی زمین پیاسی ہے، مگر پانی نہیں، خون سے تر ہے۔ مگر شاید اب بھی زندگی کی ایک کرن باقی ہے، وہ کرن جسے ظلم نے دبایا، مگر بجھا نہیں سکا۔ وہ دن ضرور آئے گا جب یہ جلتی ہوئی زمین دوبارہ سبز ہو گی، جب جنجاوید کی بندوقیں خاموش ہوں گی، جب بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں کتابیں ہوں گی، اور جب دارفور کے لوگ اپنے لہجے میں ایک نئے سورج کا نام لیں گے۔ یہی دن انصاف کا دن ہوگا، اور یہی دن اس خاموش سرزمین کی نئی صبح کا آغاز کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دارفور کے جو کبھی اب بھی
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔