Express News:
2026-06-02@23:29:29 GMT

کشمیری مسلمان آج یوم شہدا جموں منا رہے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف کشمیری آج یوم شہدا جموں منا رہے ہیں۔

ڈوگرہ فوج نے 6 نومبر 1947 کو جموں کٹھوا، ادہم پور اور ریاسی کے اضلاع میں ظلم و سفاکیت سے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی۔

یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جب کثیر تعداد میں کشمیری مسلمان پاکستان کی جانب نقل مکانی کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

قتل عام سے قبل ڈوگرہ فوج کے مسلمان سپاہیوں کو برطرف کیا گیا اور مسلمانوں کی برطرفی کے بعد جموں کینٹ کا کمانڈر ہندو افسر لگا دیا گیا۔ جابرانہ قتل عام میں ڈوگرہ فوج کے ساتھ راشٹریہ سیوک سنگھ بھی شامل تھی۔

اسی روز، 6 نومبر 1947 کو 60 سے زائد بسوں میں کشمیری مسلمانوں کو سوار کرا کر سیالکوٹ کی طرف پہلا قافلہ روانہ کیا گیا۔

سامبا کے مقام پر راشٹریہ سیوک سنگھ اور ڈوگرہ فوج نے گھات لگا کر حملہ کیا اور 123 گاؤں جلا کر خاکستر کر دیے گئے، دو ہفتے تک جاری رہنے والے قتل عام کے نتیجے میں 2لاکھ 37 ہزار کشمیری مسلمان بے دردی سےشہید کیے گئے۔

عالمی طاقتوں کو اس امر پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ 78سال گزر جانے کے باوجود کشمیری مسلمان اپنا حق خود ارادیت استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈوگرہ فوج

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا