پنڈی: افغانیوں کو مکان کرائے پر دینے والے 16 مالکان اور 163 افغانی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی: غیرقانونی مقیم غیرملکی افراد کے خلاف کریک ڈاؤن میں تین روز کے دوران افغان باشندوں کو مکان کرائے پر دینے والے 16 مالک مکان کو گرفتار کرلیا گیا، 163 غیر ملکی افغانیوں کو تحویل میں لے کر ہولڈنگ سینٹر منتقل کر دیا گیا، 51 مقدمات درج کرلیے گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنڈی پولیس نے مقدمات تھانہ سٹی، پیرودہائی، وارث خان، بنی، نیوٹاؤن، صادق آباد، رتہ امرال، آراے بازار، ریس کورس، واہ کینٹ ، چکلالہ، ائیر پورٹ، ٹیکسلا، صدرواہ، سول لائنز، مورگاہ، نصیر آباد، مندرہ، جاتلی، صدربیرونی، گوجرخان، دھمیال، کلرسیداں اور روات میں درج کیے۔
راولپنڈی پولیس نے شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی افراد کو شہری اپنی پراپرٹی ہرگز کرائے پر نہ دیں، غیر قانونی مقیم غیر ملکی افراد مکان، دکان یا کوئی بھی پراپرٹی کرایہ پر نہیں لے سکتے، شہری اپنی پراپرٹی کس غیر قانونی مقیم غیر ملکی کو فروخت بھی نہ کریں، شہری اپنی گاڑی، رکشا یا دیگر اشیاء بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو نہ دیں، شہری کسی بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکی کے ساتھ کسی قسم کے کاروباری معاملات، لین دین یا کاروباری سرگرمی نہ کریں۔
پولیس نے کہا ہے کہ کوئی شہری کسی غیر قانونی مقیم غیر ملکی کو ملازمت پر نہ رکھے، قانونی طور پر مقیم غیر ملکی متعلقہ تھانے میں اپنی رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر قانونی مقیم غیر ملکی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔