دنیا کی مہنگی ترین کافی، ایک کپ کی قیمت ہوش اڑا دے
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کافی کا شوق اب صرف روزمرہ کی عادت نہیں رہا بلکہ یہ لگژری مشروب بن چکا ہے۔ دبئی کے ایک کیفے نے دنیا کی سب سے مہنگی کافی پیش کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جس کی قیمت 3,600 درہم (تقریباً 87,000 روپے) ہے۔
اس مہنگی کافی کے لیے استعمال ہونے والے بینز کا نام Nido 7 Geisha ہے، جو پاناما کے بارو آتش فشاں کے قریب محدود مقدار میں اگائے جاتے ہیں۔ یہ بینز Best of Panama نیلامی میں تقریباً مکمل اسکور حاصل کر چکے ہیں اور عالمی کافی شائقین کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کیفے نے اس نایاب بینز کا پورا اسٹاک 2.
یہ بھی پڑھیں: چائے یا کافی، لوگ کس مشروب کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟
اس کافی کو پیش کرنے سے قبل مہمانوں کو بینز کی کہانی سنائی جاتی ہے اور کافی بغیر کسی چینی یا دودھ کے پیش کی جاتی ہے۔ کافی پینے والے اس کے ذائقے میں چمبیلی، ترش پھل، شہد اور اسٹون فروٹ کے نوٹس محسوس کرتے ہیں۔
دبئی اس قسم کی اعلیٰ معیار کی کافی کے لیے بہترین مقام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں منفرد اور لگژری تجربات کے شوقین افراد کی بڑی تعداد موجود ہے۔ کیفے کے مطابق اس کافی نے بین الاقوامی سطح پر شائقین اور کلیکٹرز کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں برس غذائی اخراجات میں ہونے والے نصف سے زیادہ اضافے کا سبب چائے اور کافی کیوں؟
ماہرین کے مطابق، یہ صرف مہنگی کافی پیش کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اسپیشلٹی کافی کے شعبے میں جدت اور لگژری تجربات کو فروغ دینے کی نشانی ہے۔
اس سے قبل بھی دبئی کے مقامی برانڈ روسٹرز اسپیشیالٹی کافی ہاؤس نے سب سے مہنگی کافی کی پیالی پیش کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جہاں ایک کپ کی قیمت 2500 درہم رکھی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دبئی دنیا کی مہنگی کافی عالمی ریکارڈ کافی مہنگی کافی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دنیا کی مہنگی کافی عالمی ریکارڈ کافی مہنگی کافی مہنگی کافی کے لیے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔