Jasarat News:
2026-07-24@04:10:41 GMT

اگر حور ہو یا پری گلے کا ہار بن جائے تو…

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251112-03-9

 

باباالف

انورمسعود نے کہا ہے:

چھوڑا نہیں کسی کو بھی یلغار وقت نے

آخر کھجور کو بھی چھوارا بنا دیا

فیلڈ مارشل عاصم منیر اگر اس انجام سے بچنا چاہتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی حسینہ کو کئی بار دیکھنا نہ پڑے تو پھر وہ ایک بار بھی دیکھے جانے کے قابل نہیں۔ 27 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد کئی بار نہیں ہر بار ہر طرف فیلڈ مارشل عاصم منیر مرکز نگاہ ہوں گے۔ اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ غالب نے کہا تھا:

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے

یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

اچھوںکو دنیا کی ہر نعمت ملے یہ فطری بات ہے لیکن اگر اچھے خود ہمیں چاہیں، خود ہمیں مل جائیں، تو اس سے بڑی نعمت کیا ہوگی۔ 27 ویں ترمیم سے کچھ ایسا ہی بندوبست ہوگیا ہے۔ جنگ مئی کے بعد پاکستانیوں کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بڑھ کر اچھا کون ہوگا۔ دنیا بھر میں جو عزت، مرتبہ اور مقام انہوں نے پاکستان کو دلوایا ہے ایسا کس کے تصور میں تھا تو اگر یہ ’’اچھے‘‘ 27 ویں ترمیم کے ذریعے آئین بدل کر اقتدار کی مدت بڑھاکر تا حیات ہمارے ساتھ رہیں تو پھر اور کیا چاہیے؟ اسی غزل میں آگے غالب نے کہا ہے

چاہتے ہیں خوبرویوں کو اسد

آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

اس شعر کی 27 ویں ترمیم کے بعد تشریح یہ ہوگی کہ خوبصورت لوگ سبھی کو اچھے لگتے ہیں مگر اگر کوئی واقعی حسن دیکھناچاہے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیکھے۔ غالب کے خوبرو کے پاس صرف ظاہری حسن ہے مگر ہمارے خوبرو کے پاس اقتدار کی، طاقت کی، دلکشی بھی ہے۔ حسن اقتدار، حسن ترمیم اور حسن قیادت کسی ایک خوبرو میں جمع ہیں تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔ جس طرح طب میں ہر بیماری کی دوا میں منقا اور آج کل ہر شادی میں بریانی لازم ہے اب پاکستان میں ہر معاملے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی رضا اور آشیر باد لازمی ہے۔ جس طرح غالب کو سمجھنے کے لیے اس سے عشق کرنا ہی پڑتا ہے اسی طرح اب پاکستان کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے فیلڈ مارشل کی نظر عنایت ضروری نہیں لازمی ہے۔ حاسدین حسد کرتے ہیں تو کرتے رہیں۔

آکے لے جائے میری آنکھ کا پانی مجھ سے

کیوں حسد کرتی ہے دریا کی روانی مجھ سے

یہ انداز بھی صرف غالب ہی کو سوٹ کرتا ہے کہ وہ یہ چاہیں کہ کوئی آئے اور مجھ سے محبت کرے۔ یہ محبت عبادت کی طرح نہیں ہوتی تھی، بڑی پابندی، بڑی بے دلی اور بڑی بے رغبتی کے ساتھ اور نہ ہی بھڑک کی طرح ہوتی تھی کہ تھوڑی دیر میں فراغت ہو جائے بلکہ تا حیات ہوتی تھی۔ اب پاکستان اور فیلڈ مارشل کی محبت کا بھی یہی عالم ہے۔ نہ یہ محبت عارضی ہے، نہ وقتی اور نہ موسمی یہ محبت دائمی ہے جس میں محبوب کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔

تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے

صرف ایک شخص کو پائوں گا جدھر جائوں گا

صاحبو وہ جو اقبال نے کہا ہے کہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔۔ تو اگر 75 برس کی ریاضت کے بعد یہ چمن ہمیں ایک دیدہ ور دے ہی بیٹھا ہے تو کیا یہ اچھا نہیں کہ اسے 27 ویں ترمیم کی پیکنگ میں سنبھال کررکھا جائے تاکہ جمہوریت کی گرد اس پر نہ پڑے۔ ہمیں احساس نہیں کسی چیز کی کمی یا رہنما یا لیڈر کی غیر موجودگی سے ادارے یا لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پھر جب کہ ہم بھارت اور افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں اور یہ حالت جنگ تاحیات ہے تو پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تاحیات ہونے چاہیں۔۔ کیوں۔۔ اس لیے کہ بھارت اور افغانستان کے لیے ان کا نام ہی کافی ہے۔

ہمیں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ معترضین کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تاحیات فیلڈ مارشل رہنے سے تکلیف کیا ہے۔ جنرل (ر) راحیل شریف نے پا کستان کو کوئی جنگ جیت کر نہیں دی لیکن ریٹائر منٹ کے بعد حکومت پاکستان نے ازراہ جنرل نوازی انہیں لاہور کے نزدیک 90 ایکڑ یعنی 4 لاکھ 35 ہزار 600 مربع گز زمین مراعات کے طور پر دے دی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تو ہمیں پاکستان کی سب سے عظیم جنگی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے اگر انہیں پورا پاکستان دے دیا گیا تو کسی کے کلیجے میں کیوں درد ہورہا ہے؟

پھر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دوام اقتدار کی لازمی فینٹسی اور وہم دوام ہے۔ رومی بادشاہ آگسٹس اور کا لیگولا نے خود کو خدائوں کا اوتار قرار دیا تھا۔ اکبر نے دین الٰہی کے ذریعے مذہب، سلطنت اور اپنی اطاعت کو یکجا کردیا تھا۔ نپولین بونا پارٹ نے فرانس کا نیا آئین لکھوا کر اپنے لیے غیر معینہ مدت اقتدار کا راستہ بنایا تھا۔ ہٹلر نے 1933 میں Enabling Act منظور کروا کر پارلیمان کو بے اختیار کردیا تھا۔ صدر ضیاالحق اور جنرل مشرف نے آئینی ترامیم کے ذریعے اپنی بغاوت اور اقتدار کو قانونی شکل دی تھی۔ صدر ایوب نے 1960میں بنیادی جمہوریت کے نظام کے ذریعے اپنی صدارت کی منظوری عوام سے لی تھی۔ مسولینی، پنوشے اور قذافی سب نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے جعلی ریفرنڈم کروائے تھے۔ ولادی میر پیوٹن نے روس کے آئین میں ترمیم کروا کر اپنی مدت اقتدار کو 2036 تک طول دینے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ اردشیر بابکان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اسے ایران کی قدیم سلطنتوں سے جوڑتے ہوئے کیلنڈر سے تین صدیاں غائب کردی تھیں۔ محمد رضاشاہ پہلوی نے 1976 میں شاہنشاہی کیلنڈر نافذ کرکے 1355 کو 2535 کردیا تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اگر دوام کا خواب دیکھ رہے ہیں تو کون سا نیا کررہے ہیں کون سا جرم کررہے ہیں۔ جب بادشاہ محسوس کرتے ہیں کہ سورج ان کے محل کے گنبد پر اپنی کرنیں نہیں بکھیر رہا ہے تو وہ آسمانوں پر مدار تبدیل کرنے نکل پڑتے ہیں۔

عوام کی فلاح اور بہبود کا جہاں تک تعلق ہے 27 ویں آئینی ترمیم کا حال غالب کی عبادت جیسا ہے۔۔ ایک دن بھی مسجد گیا ہوں تو کافر۔۔ عوام کے بنیادی حقوق، تعلیم، صحت، روزگار، معاشرتی تحفظ، عدل وانصاف کی فراہمی کو ہاتھ لگانے سے اس ترمیم میں ایسے ہی اجتناب کیا گیا ہے جیسے غالب مسجد جانے سے کرتے تھے۔ ترمیم میں بس ایک ہی کوشش ہے۔ اقتدار کا دوام اور طوالت۔ حالانکہ اس باب میں بھی غالب کہہ گئے ہیں۔۔۔ اگر حور ہو یا پری گلے کا ہار بن جائے تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔

 

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر ویں ترمیم اقتدار کو کے ذریعے ہیں کہ نے کہا کے بعد کے لیے تو پھر ہیں تو

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن