دنیا کا سب سے بڑا مکڑی کا جال، جو 1 لاکھ سے زائد مکڑیوں کا گھر بھی ہے
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
دنیا کا سب سے بڑا مکڑی کا جال یونان اور البانیہ کی سرحد پر واقع ہے جس میں ۱ لاکھ 11 ہزار مکڑیوں نے بسیرا کیا ہوا ہے۔
یہ جال سلفر غار میں موجود ہے جو کہ ورومونر کینیَن (یونان-البانیہ سرحدی خطے) میں واقع ہے۔ سائنسدانوں نے وہاں ایک بہت بڑی مکڑیوں کی کالونی دریافت کی ہے جس کا جال اور مکڑیوں کی تعداد دونوں غیرمعمولی ہیں۔
اس جال کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 106 مربع میٹر ہے۔ اس میں تقریباً 111000 مکڑیاں پائی گئی ہیں۔ دو مختلف مکڑیوں کی اقسام مشترکہ جال میں رہ رہی ہیں جن میں عام گھریلو مکڑیوں کی تعداد 69000 اور پرنریگون واگن تقریباً 42000 ہیں۔
جس غار میں یہ مکڑیا پائی گئی ہیں وہ کیمیائی لحاظ سے کافی منفرد ماحول ہے۔ یہ جال اور مکڑیوں کی کالونی اس لحاظ سے بھی خاص ہے کہ عام طور پر یہ دونوں اقسام کی مکڑیاں تنہا رہتی ہیں مگر یہاں انہوں نے اجتماعی جال بنایا ہے جو کہ پہلی دستاویزی مثال ہے۔
یہ مکڑیوں کا میگا شہر ہے جو ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں روشنی نہ ہونے کے برابر ہے اور سلفر سے بھرا پانی اور خاص کیمیائی عمل جاری ہے۔ اس ماحول نے ایک ایسی رہائش مہیا کی ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں مکڑیاں اکھٹی ہو سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مکڑیوں کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔