WE News:
2026-07-24@01:21:51 GMT

پاکستان کا افغان سرزمین سے دہشتگرد کارروائیاں روکنے پر زور

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

پاکستان کا افغان سرزمین سے دہشتگرد کارروائیاں روکنے پر زور

پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ترکی اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں 7 نومبر 2025 کو مکمل ہوا، مذاکرات میں افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے دہشتگرد حملوں، عارضی جنگ بندی اور سکیورٹی تعاون کے امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان مذاکرات میں پیشرفت، دفترِ خارجہ نے ڈیڈ لاک کی تردید کر دی

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان برادر ممالک ترکی اور قطر کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کی قدر کرتا ہے، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مذاکرات کا بنیادی مقصد افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشتگرد حملوں کے مسئلے کو حل کرنا تھا، جو گزشتہ چار برسوں میں نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔

افغان سرزمین سے دہشتگردی میں تیزی، پاکستان کا تحمل

بیان میں کہا گیا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ ان برسوں کے دوران پاکستان نے عسکری اور شہری نقصانات کے باوجود زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور جوابی کارروائی سے گریز کیا، پاکستان کو توقع تھی کہ طالبان حکومت وقت کے ساتھ ان حملوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی، مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مثبت سمت میں لے جانے کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن میں تجارتی رعایتیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، تعلیمی و طبی ویزوں کی فراہمی اور عالمی فورمز پر طالبان حکومت سے تعمیری رابطے کی ترغیب شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی شہ پر افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات ناکام

ترجمان کے مطابق افغان حکومت کی طرف سے ان کوششوں کے جواب میں صرف زبانی وعدے اور بے عملی دیکھنے میں آئی۔

پاکستان کا مطالبہ، دہشتگردوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مذاکرات کے ہر مرحلے پر اپنے بنیادی مطالبے افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: چمن بارڈر پر فائرنگ: پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور تعطل کے بعد دوبارہ جاری

ترجمان کے مطابق طالبان وفد نے ہر بار اصل مسئلے کو پسِ پشت ڈال کر غیر متعلقہ یا فرضی معاملات اٹھانے کی کوشش کی تاکہ بنیادی نکتے یعنی دہشتگردی سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

طالبان حکومت کے بہانے، مذاکرات میں پیشرفت نہ ہوسکی

ترجمان کے مطابق، طالبان نمائندوں نے استنبول میں ہونے والے تیسرے دور میں بھی دہشتگردی کے مسئلے پر سنجیدگی نہیں دکھائی اور مذاکرات کو طول دینے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ افغان فریق نے مذاکرات کا دائرہ وسیع کر کے غیر حقیقی الزامات اور بے بنیاد دعووں کو شامل کیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق طالبان حکومت صرف عارضی جنگ بندی کو طول دینا چاہتی ہے، مگر دہشتگرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات سے گریزاں ہے۔

 دہشتگردی انسان دوست نہیں، سکیورٹی کا مسئلہ ہے

ترجمان نے واضح کیا کہ طالبان حکومت پاکستانی دہشتگردوں کی موجودگی کو انسانی یا پناہ گزینوں کا مسئلہ بنا کر پیش کررہی ہے، حالانکہ یہ سراسر سکیورٹی کا معاملہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ان افراد کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے جو افغانستان میں موجود ہیں، بشرطیکہ انہیں طورخم یا چمن کے سرحدی راستوں سے باضابطہ طور پر حوالے کیا جائے، نہ کہ مسلح حالت میں سرحد پار بھیجا جائے۔

پاکستان کسی دہشتگرد گروہ سے مذاکرات نہیں کرے گا

دفترِ خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان نے کبھی کابل میں کسی حکومت سے بات چیت سے انکار نہیں کیا، مگر کسی دہشتگرد گروہ، جیسے ٹی ٹی پی، ایف اے کے، یا بی ایل اے سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: استنبول میں کل پھر پاک افغان مذاکرات: بات چیت ناکام ہوئی تو صورت حال خراب ہو سکتی ہے، خواجہ آصف

ترجمان نے کہا کہ یہ گروہ ریاستِ پاکستان اور عوام کے دشمن ہیں، اور ان کے حامی یا معاون پاکستان کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔

طالبان حکومت کے اندر اختلافات اور بیرونی اثرات

ترجمان نے انکشاف کیا کہ طالبان حکومت کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان سے محاذ آرائی نہیں چاہتے، لیکن کچھ گروہ غیر ملکی مالی امداد سے پاکستان کے خلاف بیانیہ مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ عناصر پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے کر داخلی اتحاد پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں، مگر اس طرزِ عمل سے وہ پاکستان میں موجود اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔

پاکستانی قوم اور افواج دہشتگردی کے خلاف متحد

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ طالبان حکومت کی پروپیگنڈا مہم کے باوجود پاکستان کی افغان پالیسی پر مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ عوام اور افواجِ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں یکجان ہیں اور ملک کے اندر یا باہر سے آنے والے کسی خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔

پشتون قوم پرستی کے بیانیے کی نفی

بیان میں طالبان حکومت کی جانب سے پشتون قوم پرستی کو ہوا دینے کی کوششوں کو بھی بے بنیاد قرار دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں پشتون قوم ریاست اور معاشرے کا متحرک حصہ ہے، جو اعلیٰ سیاسی و انتظامی عہدوں پر فائز ہے۔ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں شمولیتی نظام پر توجہ دے۔

 پاکستان امن کا حامی مگر دہشتگردی پر زیرو ٹالرنس

ترجمان نے کہا کہ پاکستان امن اور مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم دہشتگردی کے مسئلے کو اولین ترجیح کے طور پر حل کیے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جبکہ دہشتگردوں اور ان کے مددگاروں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news افغان طالبان افغانستان پاکستان دفتر خارجہ دہشتگردی مذاکرات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان طالبان افغانستان پاکستان دفتر خارجہ دہشتگردی مذاکرات میں کہا گیا کہ پاک افغان مذاکرات ترجمان نے کہا کہ طالبان حکومت کے افغان سرزمین سے کہ طالبان حکومت کہا کہ پاکستان دہشتگرد گروہ یہ بھی پڑھیں استنبول میں دہشتگردی کے سے پاکستان مذاکرات کا پاکستان نے ہونے والے کے مطابق خارجہ کے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار