پی آئی اے طیارے کی غلط رن وے پر لینڈنگ، لاہور کنٹرول ٹاور سمیت کیپٹن اور فرسٹ آفیسر ذمہ دار قرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
قومی ایئر لائن کے طیارے کی غلط رن وے پر لینڈنگ کے معاملہ پر بیورو آف ایئر کرافٹ سیفٹی انویسٹیگیشن پاکستان نے حتمی رپورٹ تیار کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رجسٹریشن نمبر اے پی بی او این کا حامل ایئر بس طیارے کی غلط رن وے پر لینڈنگ کا واقعہ 17 جنوری 2025 کو پیش آیا، دمام سے ملتان کی پرواز پی کے 150 کو ملتان میں دھند کے باعث لاہور اتارنا پڑا، لاہور کنٹرول ٹاور سمیت کپٹن اور فرسٹ آفیسر ذمے دار قرار دیا۔
ذرائع نے بتایاکہ اس ونڈ شیلڈ کو ہائی اسپیڈ ٹیپ لگا کر مضبوط کیا گیا اور ہدایت کی گئی ہے کہ دس دن تک ہر نئی پرواز سے پہلے چیک کیا جائے کہ ٹیپ اُکھڑ تو نہیں گیا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی اور قومی ایئرلائن کی انتظامیہ کو بھی ذمے دار قرار دیا گیا ہے، لینڈنگ سے پہلے کپٹن نے فلائٹ پاتھ خود فیڈ نہیں کیا، کیپٹن نے فلائٹ پاتھ فرسٹ آفیسر سے فیڈ کروایا جو قوانین کے خلاف ہے، فرسٹ آفیسر نے طیارے میں غلط فلائٹ پاتھ فیڈ کیا، دونوں پائلٹوں نے فلائٹ پاتھ فیڈ کرنے کے بعد کراس چیک بھی نہیں کیا۔
پائلٹ کی غلطی کا علم ہونے کے باوجود کنٹرول ٹاور لاہور خاموش رہا اور لاہور کنٹرول ٹاور نے سزا کے خوف سے خاموشی اختیار کیے رکھی، کنٹرول ٹاور لاہور طیارے کو فضا میں چکر لگا کر دوبارہ لینڈنگ کروانے میں ناکام رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا پائلٹس سمیت کنٹرول ٹاور عملے کی از سر نو تربیت کی اشد ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کنٹرول ٹاور فرسٹ آفیسر طیارے کی کی غلط
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔