سی ای سی میں جو فیصلے ہوئے وہ 27 ویں ترمیم سے متعلق تھے، گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
فائل فوٹو۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی(سی ای سی) میں جو فیصلے ہوئے وہ 27 ویں ترمیم سے متعلق تھے۔
کراچی میں عبد اللہ شاہ غازی کے مزار پر حاضری کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کے ساتھ کھڑی ہے، پی پی کا حکومت سے دو تین شقوں پر اتفاق رائے ہے۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا باقی بہت ساری شقوں پر اختلاف رائے ہے، جس پر ڈیبیٹ ہونی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو مشترکہ آئین دیا۔
گورنر پنجاب نے کہا مخالفین بھی 1973 کے آئین پر انگلی نہیں اٹھا سکتے، پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین پر کھڑی ہے، پیپلز پارٹی کوئی ایسا قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں، جو 1973 کےآئین کے منافی ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی گورنر پنجاب نے کہا
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز