بی جے پی کو جمہوریت پر نہیں لوٹ کھسوٹ پر یقین ہے، اکھلیش یادو
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بدعنوانوں کا پردہ فاش مسلسل جاری رہنا چاہیئے، جو لوگ دیمک کیطرح جمہوریت کو اندر سے کھوکھلا کررہے ہیں، انکے دن اب ختم ہوچکے ہیں، نئی نسل ایک نیا مستقبل تعمیر کریگی۔ اسلام ٹائمز۔ سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے "وی وی پی اے ٹی" پرچیاں کچرے میں ملنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ سچے سُوَچھ بھارت کے لئے بی جے پی کے راج میں انتخابی کمیشن کے کچھ لوگوں کی جانب سے پھیلائی گئی دھاندلیوں کا کچرا صاف کرنا بھی ضروری ہے۔ اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ بی جے پی اور اس کے ساتھی جمہوریت میں نہیں بلکہ "لوٹ تنتر" (لوٹ کے نظام) میں یقین رکھتے ہیں۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے ساتھی جمہوریت میں نہیں بلکہ لوٹ کھسوٹ کے نظام میں یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آزادی سے پہلے سے لے کر آج تک یہ لوگ ہمیشہ پچھلے دروازے سے سیاست کرنے اور خفیہ کاری کا کام کرتے رہے ہیں۔ اکھلیش نے کہا کہ ان مخبر مزاج لوگوں کی سازش اب بے نقاب ہو چکی ہے اور عوام گھوٹالوں اور بدعنوانیوں کو برداشت کرنے کی حد پار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پچھلے دروازے والے اب عوام کی اگلے دروازے کی دستک سنیں۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں ایماندار لوگوں کی مسلسل نظراندازی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افسروں کی ملی بھگت سے انتخابی دھاندلیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی ساکھ اور شفافیت پر سوال اٹھے ہیں، جنہیں بحال کرنا ضروری ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ بدعنوانوں کا پردہ فاش مسلسل جاری رہنا چاہیئے، جو لوگ دیمک کی طرح جمہوریت کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں، ان کے دن اب ختم ہو چکے ہیں، نئی نسل ایک نیا مستقبل تعمیر کرے گی۔
اطلاع کے مطابق بہار اسمبلی انتخابات کے دوران سمستی پور ضلع کے سرائے رنجن اسمبلی حلقے کے شیتل پٹی گاؤں کے نزدیک ہزاروں وی وی پیٹ پرچیاں کچرے میں پھینکی ہوئی پائی گئیں۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ بتایا گیا کہ اس حلقے میں 6 نومبر کو ووٹنگ ہوئی تھی، جب کہ 8 نومبر کو مقامی لوگوں نے کچرے کے ڈھیر میں "وی وی پی اے ٹی" پرچیاں دیکھی تھیں۔ خبر ملتے ہی سمستی پور کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ موقع پر پہنچے۔ افسران نے تمام پرچیاں ضبط کر کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ اس معاملے کے ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سیاسی ماحول میں گرمی بڑھ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سماجوادی پارٹی اکھلیش یادو نے نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔