شاہد آفریدی کونسی سیاسی پارٹی میں آنا چاہتے تھے؟ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ میں نے اپنا ذہن تبدیل کرلیا ہے، میں سیاست سے دور رہنا چاہتا ہوں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں تقریب کے دوران شاہد آفریدی سے سوال کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر ایک مخصوص طبقہ آپ سمیت ملک کے حقیقی ہیروز کے خلاف منفی مہم چلاتا ہے، حالانکہ آپ وہ شخصیت ہیں جو ہمیشہ اپنے ملک اور اس کے ہیروز کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
بجلی کے بلوں کی ادائیگی؛ صارفین کو بڑا ریلیف مل گیا
سوال کے جواب میں شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر مجھے ان لوگوں کی باتوں کی پرواہ ہوتی تو میں کبھی کوئی بات نہ کرتا، سوشل میڈیا پر جھوٹ بول کر لائکس یا ویوز حاصل کرنا میرا مقصد نہیں، میرا سوشل میڈیا میرے روزگار کا ذریعہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں سوشل میڈیا پر جھوٹ بول کر اپنی اولاد کے لیے حرام کمائی نہیں لا سکتا، اسی لیے میں سوشل میڈیا زیادہ استعمال بھی نہیں کرتا۔
سابق کپتان نے بغیر کسی کا نام لیے کہا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو رجسٹرڈ جھوٹے بن چکے ہیں، وہ ماضی میں دعویٰ کرتے تھے کہ کبھی پاکستان نہیں چھوڑیں گے، لیکن آج انہی لوگوں کی ویڈیوز موجود ہیں کہ وہ ملک سے باہر جاچکے ہیں، میں نے خود دیکھا کہ گدھے پر گدھا بیٹھا جارہا تھا۔
ماس ٹرانزٹ سسٹم کا ٹی کیش کارڈ مہنگا ہوگیا
سیاست میں انٹری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے دعا کیجیے گا کہ میں سیاست سے ہمیشہ دور رہوں، کیونکہ میرے پاس ایک ہی پارٹی تھی جہاں مجھے جانا تھا، لیکن 2019 یا 2020 میں ذہن تبدیل کیا اور فیصلہ کیا کہ نہیں یہ میرے بس کی بات نہیں ہے میں سیاست نہیں کرسکتا۔
View this post on InstagramA post shared by Muhammad Sajid Khan (@msajidk_42)
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ