پشاور میں مبینہ جعلی پولیس مقابلہ، شہری ہلاک، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ایک ملزم ہلاک ہوگیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ہلاک شخص مبینہ ملزم تھا تاہم لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے شہری کو گھر سے اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ واقعے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او پشاور کو فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سی سی پی او پشاور نے معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کی نگرانی ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور ایس ایس پی کوآرڈینیشن کر رہے ہیں جب کہ ایس پی صدر سرکل بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام حقائق کی بنیاد پر جلد از جلد رپورٹ پیش کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک