ایک نئی بین الاقوامی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ جدید علاجی ترقیوں کے باعث ابتدائی درجے کے بریسٹ کینسر میں مبتلا زیادہ تر خواتین کو ماسٹیکٹومی (چھاتی ہٹانے) کے بعد ریڈی ایشن کی ضرورت نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھیں:بریسٹ کینسر سے صحتیاب خواتین کو مرض دوبارہ لاحق ہونے کا خطرہ کتنا ہے؟ حوصلہ افزا تحقیق

تحقیق میں 1,600 سے زائد خواتین شامل تھیں جنہیں دوسرے درجے کے کینسر یا درمیانی نوعیت کے خطرات لاحق تھے۔ تمام خواتین کا کینسر زدہ ٹشو اور لمف نوڈز جراحی کے ذریعے ہٹایا گیا اور انہیں جدید اینٹی کینسر ادویات دی گئیں۔

مریضاؤں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو ریڈی ایشن دی گئی جبکہ دوسرے کو نہیں۔ تقریباً 10 سال بعد دونوں گروپوں کی بقا کی شرح تقریباً یکساں رہی, ریڈی ایشن حاصل کرنے والی خواتین میں 81.

4 فیصد اور بغیر ریڈی ایشن کے 81.9 فیصد۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر ایان کنکلر کے مطابق جدید علاج نے کینسر کے دوبارہ لاحق ہونے کے امکانات کو اتنا کم کر دیا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کے لیے ریڈی ایشن کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

اگرچہ ریڈی ایشن سے سینے کی دیوار پر کینسر کے لوٹنے کا امکان معمولی حد تک کم ہوا، لیکن مجموعی نتائج میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے وکیل شعیب شاہین پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار،کیمو تھراپی جاری

ماہرین کے مطابق درمیانی خطرے والے مریضوں کے لیے اب علاج کی سمت زیادہ واضح ہو گئی ہے، تاہم زیادہ خطرے والے مریضوں کے لیے ریڈی ایشن اب بھی ضروری تصور کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ریڈی ایشن کے لیے

پڑھیں:

سندھ، بیشتر شوگر ملز میں کرشنگ شروع نہ کی جاسکی، آبادگار پریشان

--فائل فوٹو

سندھ میں ایک ماہ گزر جانے کے باوجود بیشتر شوگر ملز میں کرشنگ کا عمل شروع نہیں کیا جاسکا۔ گنے کی امدادی قیمت کا تعین نہ ہونے کے باعث آبادگار سراپا احتجاج ہیں۔

آبادگاروں کا کہنا ہے کہ گنے کی کرشنگ میں تاخیر کے باعث گنے کی فصل کھیتوں میں کھڑی ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

ہائیکورٹ، سبسڈی کی عدم فراہمی کے خلاف 16 شوگر ملز کی درخواستیں خارج

کراچی سندھ ہائیکورٹ نے شوگر ملز کی ان لینڈ فریٹ...

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال چینی کے نرخ 120 روپے تھے تو آبادگاروں کو گنے کا ریٹ 600 روپے فی من دیا جارہا ہے تھا جبکہ رواں سال چینی کی قیمت 220 روپے فی کلو ہونے کے باوجود شوگر ملز آبادگاروں کو گنے کی فی من قیمت 400 روپے دے رہی ہیں۔

دوسری جانب چینی کی قیمت دو سو 10 روپے سے تجاوز کرگئی ہے لیکن انتظامیہ اور پرائس کنٹرول قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔

کین کشنر سندھ کا موقف ہے کہ سندھ میں 15 سے زائد شوگر ملز میں کرشننگ کا عمل شروع کیا جاچکا ہے، گنے کی قیمت کا تعین حکومت کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • زرعی ترقی کیلئے چین کیساتھ 6 ایم او یوز، کارڈیک، کینسر مریضوں کو کارڈ جاری کرنے کی منظوری
  • یورپی ملک میں مردوں کی آبادی میں کمی؛ خواتین نے ’کرائے پر شوہر‘ حاصل کرلیے
  • پنجاب حکومت کا نیا اقدام، کینسر اور دل کے مریضوں کے لیے خصوصی کارڈ متعارف
  • مصنوعی ذہانت کی بدولت ملازمین کو کام میں کتنا وقت بچتا ہے؟ تحقیق میں دلچسپ انکشاف
  • صحت کی سہولت: پنجاب حکومت لانے جا رہی ہے کینسر اور دل کے مریضوں کے لیے خصوصی کارڈ
  • حکومتِ پنجاب نے کینسر اور دل کے مریضوں کے اخراجات کا بوجھ اپنے سر لے لیا
  • سندھ، بیشتر شوگر ملز میں کرشنگ شروع نہ کی جاسکی، آبادگار پریشان
  • کینسر اور دل کے مریضوں کیلیے بڑی خوشخبری، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بڑا فیصلہ کرلیا
  • مریم نواز کا کینسر اور دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلئے ’وزیراعلیٰ سپیشل اینیشیٹو کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ 
  • خواتین میں ڈپریشن کے زیادہ جینیاتی خطرات کا انکشاف