جرمنی میں مریضوں کی قاتل نرس کو عمر قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن: جرمنی کے ایک اسپتال میں نرس کو متعدد مریضوں کو انجکشن لگا کر قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق جرمنی میں ایک بڑے اسپتال میں مریضوں کی نگہداشت پر مامور ایک نرس نے اپنی ملازمت آسان کرنے اور اپنی ذمے داری کا بوجھ کم کرنے کی غرض سے کوئی 10 مریضوں کو انجکشن لگا کر قتل کر دیا تھا۔ اعلیٰ حکام کی ایک دوسری رپورٹ کے مطابق قاتل نرس نے مزید 27 مریضوں کو بھی اسی طریقہ کار سے قتل کرنے کی کوشش کی ۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ مذکورہ غیر معمولی واقعے کے بعد عدالت نے اس کے جرائم کی سنگینی کے پیش نظر عمر قید کی سزا سنادی۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ جرمنی میں قاتل کو قتل کے جرم میں سزائے موت نہیں دی جاتی بلکہ یہ ایک ظالمانہ سزا سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نرس نے سماعت کے دوران بتایا کہ اس نے زیادہ تر عمر رسیدہ مریضوں کو ٹیکے لگا کر قتل کیا کیونکہ وہ اسے زیادہ بوجھ لگتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مریضوں کو
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔