بلوچستان میں ایک ماہ کیلیے دفعہ 144 نافذ، احتجاج اور اسلحے کی نمائش پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کوئٹہ:صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر محکمہ داخلہ بلوچستان نے صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، 6 نومبر 2025 سے نافذ ہونے والا یہ حکم نامہ ایک ماہ تک مؤثر رہے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں اب کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، ریلی، احتجاج یا سیاسی اجتماع کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس کے ساتھ ہی پانچ یا اس سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی سختی سے پابندی ہوگی۔
مزید برآں اسلحہ لے کر چلنے اور اس کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا ہے ، حساس اضلاع میں سیکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو بروقت روکا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت نے انتظامی اور حفاظتی اقدامات میں سختی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق اگر حالات معمول پر نہ آئے تو دفعہ 144 کی مدت میں مزید توسیع کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔