نریندر مودی قاتل ہیں، انہوں نے گجرات میں قتل عام کیا، میئر نیویارک ظہران ممدانی کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سےوائرل ہو رہی ہے جس میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ کسی اسٹیج پر اکھٹے موجود ہوں گے؟
ظہران ممدانی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا بالکل بھی نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے 2002 کے گجرات فسادات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اُس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مودی نے ’گجرات میں مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام‘ میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے مودی کا موازنہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انہیں اسی طرح دیکھنا چاہیے جیسے ہم بنیامین نیتن یاہو کو دیکھتے ہیں یہ ایک جنگی مجرم ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by National Herald (@nationalherald_nh)
واضح رہے کہ مسلم جنوبی ایشیائی نژاد ظہران ممدانی نیویارک کے میئر منتخب ہوگئے ہیں، وہ اس نیویارک کے میئر بننے والے پہلے مسلمان امیدوار بن گئے ہیں۔
مسلمان امیدوار ظہران ممدانی آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلوا کے ساتھ مقابلہ کررہے تھے، انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے ان کی بھرپور مخالفت کی اور انہیں کمیونسٹ قرار دے کر گرفتار کرنے اور الیکشن جیتنے پر نیویارک کی فنڈنگ روکنے کی بھی دھمکی دی تھی۔
خود کو سوشلسٹ ڈیموکریٹ قرار دینے والے 34 سالہ ظہران ممدانی کی جیت کو ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جن کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے اب تک یہ سب سے اہم انتخابات ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق شہر بھر میں 2 ملین سے زائد ووٹ ڈالے گئے، جو 1969 کے بعد میئر کے انتخاب میں سب سے زیادہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ظہران ممدانی نریندر مودی نیو یارک نیویاک میئر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیو یارک
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ